پاکستان اور بنگلہ دیش کی فضائی افواج کے درمیان منگل کے روز دفاعی تعاون کے فروغ پر اہم مشاورت ہوئی، جس میں جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیاروں کی ممکنہ فراہمی بھی زیر غور آئی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بنگلہ دیش فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد نے اسلام آباد میں ایئر ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں ان کی ملاقات پاکستان فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ہوئی۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کی فضائی افواج کے مابین عملی تعاون، تربیتی شراکت، تکنیکی صلاحیتوں میں بہتری اور ایرو اسپیس کے میدان میں اشتراک پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر بنگلہ دیشی وفد کو باقاعدہ گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے مہمان وفد کو پاکستان فضائیہ میں ہونے والی جدید پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ بنگلہ دیش فضائیہ کو ابتدائی سے لے کر اعلیٰ سطح تک پرواز اور خصوصی کورسز پر مشتمل مکمل تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔انہوں نے سپر مشاق تربیتی طیاروں کی جلد فراہمی اور طویل المدتی تکنیکی معاونت کے تسلسل کی یقین دہانی بھی کروائی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بنگلہ دیش فضائیہ کے سربراہ نے پاکستان فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل کارکردگی کو سراہا اور اپنی فضائیہ کے موجودہ بیڑے کی دیکھ بھال، فضائی دفاعی ریڈار نظام کے انضمام اور فضائی نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے تعاون میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ ملاقات میں جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی ممکنہ خریداری پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر بنگلہ دیشی وفد نے نیشنل آئی ایس آر اینڈ انٹیگریٹڈ ایئر آپریشنز سینٹر، پی اے ایف سائبر کمانڈ اور نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کا دورہ کیا، جہاں انہیں آئی ایس آر، سائبر سیکیورٹی، خلائی صلاحیتوں، الیکٹرانک وارفیئر اور بغیر پائلٹ نظاموں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ دورہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین دیرینہ تعلقات اور دفاعی میدان میں مستقبل کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کی عکاسی کرتا ہے۔







Discussion about this post