ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے نے ایونٹ کو سنسنی خیز مرحلے میں داخل کردیا ہے۔ بھارت کی فائنل میں رسائی کے بعد اب دوسری نشست کے لیے پاکستان اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں براہِ راست مقابلے میں آمنے سامنے ہیں۔
بھارت کی شاندار کارکردگی
گزشتہ روز بھارت نے بنگلہ دیش کو شکست دے کر پوائنٹس ٹیبل پر اپنی پوزیشن مستحکم کی اور سب سے پہلے فائنل میں جگہ بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔ بھارتی ٹیم نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار بیٹنگ اور موثر باؤلنگ کا مظاہرہ کیا ہے۔ دفاعی چیمپئن سری لنکا سپر فور مرحلے میں اپنے ابتدائی دونوں میچز ہار کر ٹورنامنٹ سے باہر ہوچکی ہے۔ اب 26 ستمبر کو بھارت اور سری لنکا کا میچ محض رسمی کارروائی تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ اس کے نتائج فائنل کی دوڑ پر کوئی اثر نہیں ڈالیں گے۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کا فیصلہ کن میچ
اب سب کی نظریں آج کے بڑے ٹاکرے پر ہیں جہاں پاکستان اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف میدان میں اتریں گی۔ اس میچ کو سیمی فائنل کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے، کیونکہ جیتنے والی ٹیم براہِ راست فائنل میں جگہ بنائے گی۔
پاکستان کا سفر اور چیلنجز
پاکستان کی ٹیم نے ایونٹ میں شروعات بھرپور انداز میں کی مگر بھارت کے خلاف مسلسل دو شکستوں نے پاکستانی ٹیم کے لیے مشکلات کھڑی کردیں۔ فائنل تک پہنچنے کے لیے پاکستان کو آج کے میچ میں لازمی فتح حاصل کرنا ہوگی۔ ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ پر دباؤ ہے جبکہ باؤلنگ کے شعبے میں حارث رؤف اور شاہین شاہ آفریدی سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔
فائنل کی جھلک
ایشیا کپ کا فائنل 28 ستمبر کو کھیلا جائے گا، جہاں بھارت پہلے ہی جگہ بنا چکا ہے۔ اگر پاکستان آج فتح حاصل کرتا ہے تو کرکٹ شائقین کو ایک اور پاک-بھارت فائنل دیکھنے کو ملے گا، جو ایونٹ کا سب سے بڑا اور ہائی وولٹیج ٹاکرا ہوگا۔







Discussion about this post