پاکستان کی اقتصادی تعلقات کو نئی جہتوں سے استوار کرنے اور عالمی منڈیوں میں اپنی موجودگی کو مزید وسعت دینے کے عزم کے تحت، امریکہ میں پاکستان کے سفیر، رضوان سعید شیخ نے 15 سے 17 ستمبر 2025 تک نیو یارک کا ایک اہم اور بامقصد تین روزہ دورہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کو فروغ دینا اور پاکستانی صنعتکاروں کے لیے امریکی مارکیٹ تک رسائی کے نئے راستے کھولنا تھا۔

اس دوران سفیر شیخ نے پاکستان کی صفِ اول کی ٹیکسٹائل صنعتوں کے رہنماؤں، جن میں گل احمد، الکرم انڈسٹریز، الکرم تولیے، نشات ملز اور لکی ٹیکسٹائل شامل ہیں، کے ساتھ کامیاب اور نتیجہ خیز ملاقاتیں کیں۔ اسی طرح انہوں نے تجارتی سہولت کار اداروں جیسے TEU، ٹریڈ ایگزیبٹر USA، GPL LLC کے ساتھ ساتھ امریکہ میں موجود معروف درآمد کنندگان اور ہوم ٹیکسٹائل و اپیرل کے سرکردہ سورسنگ ایجنٹس سے بھی مشاورت کی۔

ان ملاقاتوں میں پاکستان کے صنعتی شعبے کی مضبوط صلاحیتوں، ہوم ٹیکسٹائل میں مسابقتی برتری، اور عالمی سطح پر قابلِ بھروسہ تعمیل و ٹریس ایبلیٹی کے ریکارڈ کو اجاگر کیا گیا۔ عالمی تجارتی منظرنامے میں حالیہ تبدیلیوں اور ٹیرف میں ردوبدل کے تناظر میں سفیر نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کے ٹیکسٹائل شعبے کو ان نئے ابھرتے ہوئے مواقع کو بروقت پائیدار تجارتی کامیابیوں میں بدلنا چاہیے۔سفیر شیخ نے تجارتی سفارتکاری میں ایمبیسی کے فعال کردار کو نمایاں کرتے ہوئے برآمد کنندگان کو واشنگٹن ڈی سی میں موجود پاکستان کے تجارتی ونگ اور نیو یارک قونصل خانہ کی بھرپور معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے صنعتکاروں کو ای کامرس اور براہِ راست صارفین تک رسائی کے جدید پلیٹ فارمز کو اپنانے کی ترغیب دی اور امریکی ڈیجیٹل ریٹیل مارکیٹ میں پاکستانی منصوبوں کی کامیابیوں کو نمایاں کیا۔

پاکستانی برآمد کنندگان نے اس موقع پر اپنے اہم چیلنجز پیش کیے جن میں بڑھتی ہوئی توانائی لاگت، ورکنگ کیپیٹل کی کمی اور ای کامرس و پائیدار پیداوار کے لیے مخصوص خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کی ضرورت شامل ہے۔ یہ دورہ دراصل پاکستان کے اُس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت وہ اپنی برآمدات کو محض مقدار میں نہیں بلکہ معیار اور قدر کے اعتبار سے بھی بلند تر سطح پر لے جانا چاہتا ہے۔ ساتھ ہی یہ کوشش بھی نمایاں ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ دیرپا تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرے اور عالمی ٹیکسٹائل سپلائی چینز میں خود کو ایک قابلِ اعتماد اور دیرینہ شراکت دار کے طور پر منوائے۔







Discussion about this post