فرانس نے تاریخ کا ایک نیا ورق پلٹتے ہوئے فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرلیا۔ یہ غیر معمولی اعلان نیویارک میں ہونے والی اعلیٰ سطحی عالمی کانفرنس کے دوران کیا گیا، پیر کے روز فرانس اور موناکو نے باضابطہ طور پر فلسطین کی آزادی کو تسلیم کیا۔ اس موقع پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے نہایت جرات مندانہ اور پُرعزم لہجے میں کہا کہ:
“ہمیں اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانی ہوں گی تاکہ دو ریاستی حل کے امکانات کو زندہ رکھا جا سکے، جہاں اسرائیل اور فلسطین امن اور سلامتی کے ساتھ رہ سکیں۔”
I declare that today, France recognizes the State of Palestine. pic.twitter.com/8kg6xukuO0
— Emmanuel Macron (@EmmanuelMacron) September 22, 2025
صدر میکرون نے ایک نیا فریم ورک پیش کیا، جس کے تحت فرانس غزہ میں جنگ بندی، اصلاحات اور قیدیوں کی رہائی جیسے اقدامات کی بنیاد پر فلسطین میں اپنا سفارتخانہ کھولے گا۔ اس کے ساتھ ہی توقع کی جا رہی ہے کہ اینڈورا، بیلجیم، لکسمبرگ اور سان مارینو بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل فلسطین کو تسلیم کرلیں گے۔ اس سے پہلے ہفتے کے اختتام پر آسٹریلیا، برطانیہ، کینیڈا، پرتگال اور مالٹا بھی فلسطین کو آزاد ریاست ماننے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ پاکستان کی نمائندگی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی، تاہم وہ مقررین میں شامل نہیں تھے۔ ترکیہ، برازیل، آسٹریلیا اور کینیڈا سمیت کئی ممالک کے سربراہان اور وزرائے اعظم نے اس اجلاس میں بھرپور شرکت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف بھی نیویارک پہنچے مگر اجلاس میں شریک نہ ہوئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے کانفرنس میں فعال شرکت کی اور وزیر خارجہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر فلسطین کو تسلیم کرنے کے حالیہ عالمی اقدامات کا پرجوش خیر مقدم کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان 1988 میں آزادی کے اعلان کے فوراً بعد فلسطین کو تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں شامل تھا۔
Today I attended the High-Level Int’l Conference on the Peaceful Settlement of the Question of Palestine and the Implementation of the Two-State Solution, co-chaired by the Kingdom of Saudi Arabia and France, at the #UN Headquarters. #Pakistan welcomes announcements on…
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) September 22, 2025
فلسطینی صدر محمود عباس نے، امریکی ویزا نہ ملنے کے باعث ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا اور دنیا کے تمام ممالک سے اپیل کی کہ وہ بھی فلسطین کو تسلیم کریں تاکہ یہ مظلوم قوم اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت حاصل کرسکے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جنگ بندی کے ایک سال کے اندر اصلاحات اور شفاف انتخابات کرائے جائیں گے۔ یہ کانفرنس ایسے وقت منعقد ہوئی ہے جب مغربی طاقتیں دہائیوں پرانی پالیسی سے ہٹ کر پہلی بار فلسطین کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہوئی ہیں۔ برطانیہ، جس نے 1917 کے بالفور اعلامیے کے ذریعے اسرائیل کے قیام کی بنیاد رکھی تھی، اس نے بھی ایک تاریخی موڑ لیتے ہوئے لندن میں فلسطینی سفارتخانہ قائم کردیا۔ یہ اعلیٰ سطحی اجلاس دراصل جولائی میں ہونے والی ایک سمٹ کا تسلسل تھا، جس میں نیویارک اعلامیہ کا مسودہ تیار کیا گیا اور بعد ازاں 12 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسے منظور کرلیا۔ اسی روز وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرز میں دولتِ مشترکہ وزرائے خارجہ اجلاس میں بھی شرکت کی اور قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کی میزبانی میں ہونے والی خصوصی مشاورت میں شریک ہوئے۔ اس مشاورت میں اردن و یو اے ای کے نائب وزرائے اعظم، جبکہ مصر، انڈونیشیا، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ بھی شامل تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند سے دوطرفہ تعلقات پر بھی گفتگو کی۔ یوں فلسطین کے حق میں بڑھتے ہوئے عالمی قدم نہ صرف ایک نئے عہد کی بنیاد رکھ رہے ہیں بلکہ ایک ایسی امید بھی جگا رہے ہیں جو برسوں کے زخموں پر مرہم رکھ سکتی ہے۔
Statement by Deputy Prime Minister/Foreign Minister at the Commonwealth Foreign Affairs Ministers Meeting
🔗⬇️https://t.co/EEwPuOcAXS pic.twitter.com/5CA20CWlna
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) September 22, 2025







Discussion about this post