نیویارک میں ایک تاریخی لمحے کا آغاز ہو گیا ہے۔ ظہران ممدانی نے اپنی نئی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے میئر کا حلف اٹھا لیا اور شہر کی قیادت کا فخر حاصل کیا۔ تقریب میں ظہران ممدانی نے قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر عہدے کا حلف لیا، اور اس لمحے کو نہ صرف نیویارک بلکہ پوری دنیا میں ایک یادگار موقع قرار دیا گیا۔ وہ نیویارک کے 111ویں میئر اور پہلے مسلمان میئر بنے ہیں، جبکہ سینیٹر برنی سینڈرز نے انہیں عہدے کا باقاعدہ حلف دلایا۔ موجودہ میئر ایرک ایڈمز، متعدد اراکین کانگریس اور دیگر اہم شخصیات بھی تقریب میں موجود تھیں، جنہوں نے اس تاریخی لمحے کو تقریباً جشن کی طرح منایا۔
34 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ امیدوار ظہران ممدانی نے میئر کے انتخاب میں شاندار فتح حاصل کی، جہاں انہیں 49 اعشاریہ 6 فیصد ووٹ ملے، جبکہ ان کے قریبی حریف سابق گورنر اینڈریو کومو صرف 41 اعشاریہ 6 فیصد ووٹ حاصل کر سکے۔ یہ کامیابی نہ صرف انفرادی سطح پر اہم ہے بلکہ نیویارک کی سیاست میں ایک نئی سوچ اور تبدیلی کی علامت بھی سمجھی جا رہی ہے۔ ظہران ممدانی کا عہدہ سنبھالنا، شہر کے لیے امید اور متحرک قیادت کی نوید لے کر آیا ہے۔







Discussion about this post