دنیا بھر میں پیر کے روز ایمیزون ویب سروسز (AWS) کی وسیع پیمانے پر ہونے والی خرابی نے جب عالمی سطح پر درجنوں بڑی ایپس کو مفلوج کر دیا، تو اسی روز پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین ایک اور آزمائش سے دوچار ہوئے۔ کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں اچانک انٹرنیٹ کی رفتار گھنٹوں تک پست رہی، اور سبب، حسبِ روایت ، مبینہ زیرِ سمندر "کیبل فالٹ” کو ٹھہرایا گیا۔ پاکستان کے متعدد انٹرنیٹ صارفین نے مختلف آئی ایس پیز کی سست رفتار اور سروس میں تعطل کی شکایات درج کرائیں، اور ایک بار پھر شبہ کی سوئی سمندر کی گہرائیوں میں بچھائی گئی کیبلز کی خرابی کی طرف جا ٹھہری۔ مگر حیران کن طور پر نہ آئی ایس پیز، نہ وزارتِ آئی ٹی اور نہ ہی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی توجیہ یا باضابطہ موقف سامنے آیا۔وفاقی وزیرِ آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے صورتِ حال کی وجہ عالمی بحران کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ بڑی ایپس، بشمول اسنیپ چیٹ، ایمیزون ویب سروسز کی بین الاقوامی سطح پر ہونے والی فنی خرابی کے زیرِ اثر بند ہوئیں۔
تاہم دوسری جانب، کئی پاکستانی صارفین نے دعویٰ کیا کہ ان کے اپنے سروس پرووائیڈر نے واضح طور پر انہیں “کیبل میں خرابی” سے آگاہ کیا ہے۔ ڈیجیٹل امور کے ماہر حبیب اللہ خان نے پلیٹ فارم X (سابق ٹوئٹر) پر تحریر کیا کہ یہ تعطل PEACE کیبل میں خرابی کے باعث پیش آیا ہے۔ ان کے مطابق “کیبل کے مرکزی نظام میں کٹ لگ گیا ہے اور تکنیکی ٹیمیں عیب کی درست لوکیشن تلاش کر رہی ہیں”۔
پیس سب میرین کیبل چین سے گزرتی ہوئی کراچی کے علاقے ڈیفنس (ڈی ایچ اے) میں مصری شاہ گیٹ وے سے پاکستان میں داخل ہوتی ہے، اور ملک کو 600 گیگا بٹس فی سیکنڈ کی بینڈ وڈتھ مہیا کرتی ہے۔ پی ٹی اے کے مطابق باقی نمایاں زیرِ زمین کیبلز پی ٹی سی ایل اور ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس کے زیرِ انتظام ہیں، جن میں سے پی ٹی سی ایل تین بڑے نیٹ ورکس چلاتا ہے:
— AAE-1 (افریقہ، ایشیا، یورپ)
— SMW-4 (جنوب مشرقی ایشیا تا مغربی یورپ)
— IMEWE (بھارت، مشرقِ وسطیٰ، مغربی یورپ)
ان میں SMW-4 اور IMEWE کے لینڈنگ اسٹیشن ہاکس بے پر ہیں، جبکہ AAE-1 کا کنکشن کراچی کے کلفٹن میں واقع ہے۔







Discussion about this post