تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس میں سزا کالعدم باعزت بری

by ویب ڈیسک
دسمبر 12, 2023
منجمد جائیدادیں بحال کرنے کا حکم
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس میں نواز شریف کی درخواست پر سماعت کی۔  اس موقع پر  نواز شریف کے وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا کہ زیر کفالت کے ایک نکتے پر صرف بات کرنا چاہتا ہوں۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کے دلائل مکمل ہوگئے اس پر انہوں ںے صرف ایک نکتے پر بات کرنا چاہی۔  عدالت نے پوچھا کیا نیب نے نواز شریف کے زیر کفالت سے متعلق کچھ ثابت کیا ہے؟ امجد پرویز کا کہنا تھا کہ استغاثہ کے اسٹار گواہ واجد ضیا  نے اعتراف کیا تھا کہ زیر کفالت سے متعلق کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔  اُن کا مزید کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے میں کہا گیا مقدمات میں ملزم کو معصوم سمجھا جاتا ہے، فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمات میں استغاثہ کو الزام ثابت کرنا ہوتے ہیں، فیصلوں کے مطابق بار ثبوت استغاثہ پر ہوتا ہے نہ کہ ملزم پر، ملزم کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے مجبور نہیں کیا جاسکتا، یہی قانون اثاثوں کے مقدمات میں بھی لاگو ہوا ہے۔ جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ  بنیادی طور پر اس کیس میں العزیزیہ اور ہل میٹل کے الزامات ہیں، العزیزیہ میں پہلے بتائیں کتنے پیسے بھیجے کیسے بھیجے کب فیکٹری لگی ؟  نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ یہ وائٹ کالر کرائم کا کیس ہے، پاکستان میں موجود شواہد اکٹھے کیے ہیں، بیرون ملک شواہد کے حصول کے لیے ایم ایل اے لکھے گئے۔

بشکریہ ٹوئٹر

عدالت نے دریافت کیا کہ  آپ یہ بتائیں وہ کون سے شواہد ہیں جن سے آپ ان کا تعلق کیس سے جوڑ رہے ہیں؟ جائیدادوں کی مالیت سے متعلق کوئی دستاویز تو ہوگا؟ آپ بتائیے العزیزیہ کب لگائی گئی نواز شریف کے ساتھ کیا تعلق ہے؟  نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ثبوت میں دستاویز ان کی اپنی ہے، جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ یہ کس کے حوالے سے دستاویز ہے؟ آپ نے پچھلی سماعت پر کہا تھا کہ جج کے حوالے سے تعصب کا معاملہ ہے۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ جج کی برطرفی کے بعد اس فیصلے پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔  عدالت نے دونوں طرفہ دلائل مکمل ہونے کے بعد نواز شریف کی سزا کے خلاف فیصلہ محفوظ کرلیا جو کچھ دیر بعد سنادیا۔ عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو دی گئی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں باعزت کردیا۔ یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو نیب کیسز دیکھنے والی احتساب عدالت نے 24 دسمبر 2018 کو نیب کے العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس میں 7سال قید کی سزا سنائی تھی۔

Previous Post

دلیپ کمار کی شخصیت پر گفتگو کا دوسرا حصہ

Next Post

فوجی عدالتوں میں شہریوں کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ معطل

Next Post
جسٹس فائز عیسیٰ  کے صدارتی ریفرنس کے بینچ پر تحفظات

فوجی عدالتوں میں شہریوں کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ معطل

Discussion about this post

تار نامہ

iran

پڑوسی ممالک کیخلاف حملے نہیں کیے جائیں گے, ایرانی صدر

ispr

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات، خطے سے متعلق تبادلہ خیال

petrol pump

ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی کوئی قلت نہیں ہے، ترجمان اوگرا

9 may 2

جی ایچ کیو حملہ کیس ، عمر ایوب ، شبلی فراز ، حماد اظہر سمیت 47 ملزمان کو 10 ، 10 سال قید

a1178

ہمت ہے تو آبنائے ہرمز سے گزر کر دکھاؤ ،ایرانی فوج

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist