بیرونِ ملک، خاص طور پر متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی شہریوں کے لیے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ایک اہم انتباہ جاری کیا ہے، جس میں شہریوں کو جعلساز اور دھوکہ باز عناصر سے محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نادرا کے مطابق کچھ افراد خود کو نادرا کے نمائندے یا فرنچائز کے طور پر پیش کر کے شناختی کارڈ، نائکوپ اور دیگر شناختی دستاویزات سے متعلق خدمات فراہم کرنے کا جھانسہ دیتے ہیں۔ یہ عناصر سادہ لوح شہریوں سے 300 سے 500 اماراتی درہم وصول کر لیتے ہیں اور اس دوران حساس ذاتی معلومات بھی حاصل کر لیتے ہیں، جس کے غلط استعمال کا خطرہ رہتا ہے۔نادرا نے زور دے کر کہا ہے کہ بیرونِ ملک شناختی دستاویزات کے حصول، تجدید یا ترمیم کے لیے کسی غیر مجاز فرد یا نجی ایجنٹ سے رجوع نہ کیا جائے۔ شہری ایسے مشکوک افراد سے مکمل طور پر اجتناب کریں اور فوری طور پر نادرا کے شکایات پورٹل پر اطلاع دیں: https://complaints.nadra.gov.pk

مزید کہا گیا ہے کہ نائکوپ یا دیگر شناختی دستاویزات کے لیے صرف سرکاری اور مستند ذرائع استعمال کیے جائیں۔ شہری آن لائن درخواست پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے جمع کرا سکتے ہیں، جبکہ دبئی اور ابوظہبی میں قائم پاکستانی قونصل خانوں میں بھی نادرا کی خدمات دستیاب ہیں۔نادرا نے یہ بھی ہدایت دی کہ اگر کوئی شہری پاکستان کا سفر کر رہا ہو تو وہ شناختی دستاویزات کے سلسلے میں قریبی نادرا رجسٹریشن دفتر سے براہِ راست رابطہ کرے۔ نادرا کا کہنا ہے کہ شہریوں کا ڈیٹا قومی اثاثہ ہے اور اس کے تحفظ میں عوامی تعاون انتہائی ضروری ہے۔ جعلساز عناصر سے ہوشیار رہنا اور صرف سرکاری چینلز کے استعمال کو ترجیح دینا محفوظ ترین راستہ ہے۔






Discussion about this post