معروف ماڈل اور اداکارہ نادیہ حسین کے شوہر عاطف خان سے جڑے مبینہ 53 کروڑ روپے کے بینک فراڈ کیس میں ایک اہم اور حیران کن پیشرفت سامنے آ گئی ہے۔ سندھ ہائیکورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران عاطف خان کی دس لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی گئی، جس کے بعد یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر خبروں کا مرکز بن گیا۔ عدالت میں عاطف خان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کا اس مبینہ مالی اسکینڈل میں براہِ راست کردار ثابت نہیں ہوتا اور انہیں بلاوجہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسی کیس میں شامل دیگر ملزمان کی عبوری ضمانتیں بھی عدالت نے برقرار رکھنے کا حکم دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ ابھی بھی تحقیقات کے حساس مرحلے میں ہے۔ واضح رہے کہ مارچ کے مہینے میں ایف آئی اے نے عاطف خان کو ایک نجی بینک میں کروڑوں روپے کی مبینہ خرد برد اور مشکوک مالی لین دین کے بعد حراست میں لیا تھا۔ اُن پر الزام تھا کہ انہوں نے بینک کے تقریباً 80 کروڑ روپے کا غلط استعمال کیا اور ذاتی کاروباری مقاصد کے لیے 65 کروڑ 40 لاکھ روپے تیسری پارٹی سے وصول کیے۔

یہ کیس اس وقت مزید سنسنی خیز رخ اختیار کر گیا جب سامنے آیا کہ مبینہ طور پر کچھ رقم نادیہ حسین کے بینک اکاؤنٹ میں بھی منتقل کی گئی ہے، جس کے بعد اداکارہ کو بھی تفتیش کے لیے ایف آئی اے کی جانب سے طلب کیا گیا۔ تاہم نادیہ حسین نے واضح کیا کہ شوہر کے معاملات میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں اور جو رقم ان کے اکاؤنٹ میں آئی تھی، اس کی مکمل وضاحت وہ پہلے ہی حکام کو دے چکی ہیں۔کچھ عرصہ قبل یہ معاملہ اس وقت اور زیادہ متنازع بن گیا جب نادیہ حسین نے ایک ایف آئی اے اہلکار پر رشوت طلب کرنے کا الزام عائد کیا۔ دوسری جانب ایف آئی اے نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ شخص نے صرف ڈی پی بطور پروفائل استعمال کی تھی اور اس کا ادارے سے کوئی تعلق نہیں۔ اس ہائی پروفائل کیس میں ہر نیا موڑ عوامی دلچسپی میں اضافہ کر رہا ہے اور اب سب کی نظریں آئندہ سماعت اور مزید قانونی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔







Discussion about this post