پاکستان کی معروف اداکارہ اور مارننگ شو میزبان نادیہ خان نے شوبز انڈسٹری کے بعض فنکاروں اور اینکرز کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان پر آئندہ کوئی ذاتی حملہ کیا گیا، تو وہ قانونی چارہ جوئی سے گریز نہیں کریں گی۔ اپنے یوٹیوب چینل پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں نادیہ خان نے دو ٹوک انداز میں کہا:
"اگر اب کسی نے مجھے ذاتی طور پر نشانہ بنایا، تو اسے عدالت میں جواب دینا ہوگا۔”
نادیہ خان، جو ایک طویل عرصے سے مارننگ شوز کے ذریعے لاکھوں خواتین کی آواز بنی رہی ہیں، اپنے شو کے مختلف سیگمنٹس پر بارہا تنقید کا سامنا کرتی آئی ہیں۔ حالیہ دنوں میں فیصل قریشی، ثروت گیلانی، بہروز سبزواری، یاسر حسین اور صبا فیصل سمیت کئی سینئر فنکاروں نے ان کے اندازِ میزبانی پر ناراضی کا اظہار کیا۔ تاہم نادیہ خان کا مؤقف ہے کہ تنقید اور تضحیک میں فرق ہوتا ہے، اور جب بات ذاتی حملوں تک پہنچ جائے تو خاموشی کا مطلب کمزوری نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے اپنی ویڈیو میں اعلان کیا کہ:
"اگر اخلاقیات کو پیسوں اور شہرت کے لیے بیچا جائے، تو پھر قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ میں صرف کریمنل ڈیفیمیشن نہیں بلکہ پیکا اور سول قوانین کے تحت بھی کارروائی کروں گی۔”
ان کے مطابق مقدمہ دائر ہونے کے بعد ایسے افراد کو برسوں عدالتوں کے چکر لگانے پڑ سکتے ہیں۔
نادیہ خان کے اس اعلان پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے کو ملا۔ کچھ صارفین نے ان کے اقدام کو بہادرانہ اور جائز قرار دیا، ان کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی ذاتی تضحیک کا نشانہ بنانے کا حق نہیں۔
تاہم دوسری طرف کچھ صارفین کا ماننا ہے کہ نادیہ خان خود بھی کئی مواقع پر دوسروں پر تنقیدی اور ذاتی تبصرے کرتی رہی ہیں، لہٰذا انہیں بھی تنقید برداشت کرنی چاہیے۔نادیہ خان کا کہنا تھا کہ یہ ان کی آخری وارننگ ہے:
"اب بہت ہو چکا ہے، اگر آئندہ کسی نے ذاتیات پر حملہ کیا، تو اسے قانونی طور پر جواب دینا ہوگا۔”
یہ واضح اعلان نہ صرف نادیہ خان کے بدلتے مؤقف کی غمازی کرتا ہے بلکہ شوبز انڈسٹری میں ذاتی حدود کی اہمیت پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ آیا یہ قدم دوسروں کے لیے ایک مثال بنے گا یا مزید تنازعات کو جنم دے گا — یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔







Discussion about this post