مِس یونیورس 2025 اس بار خوبصورتی کے مقابلے سے زیادہ ایک نہ ختم ہونے والا تنازع بن کر سامنے آیا۔ کچھ امیدواروں کا واک آؤٹ، ایک جج کا اچانک استعفیٰ، میزبان کی برطرفی، اور ایک امیدوار کا اسٹیج سے گر جانا, سب نے اس عالمی ایونٹ کی ساکھ کو بری طرح ہلا کر رکھ دیا۔ میکسیکو کی حسینہ کے تاج پہن لینے کے بعد بھی الزامات اور سوالات کی گونج ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ اسی ہنگامہ خیز ماحول میں مِس یونیورس فلسطین ندین ایوب نے ’Most Beautiful People‘ کیٹیگری کے ووٹنگ عمل کو شدید غیر شفاف قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقابلے کے اختتام سے صرف 30 منٹ پہلے تک وہ واضح برتری کے ساتھ سرفہرست تھیں، مگر حیران کن طور پر چند منٹ میں ہی ایک دوسری امیدوار کے ووٹ بیس ہزار تک بڑھ گئے، جسے وہ "ناممکن” قرار دیتی ہیں جب تک کہ یہ تبدیلی اندرونی طور پر نہ کی گئی ہو۔

حیرت انگیز طور پر کیٹیگری بند ہونے کے بعد بھی کسی فاتح کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اگرچہ حسینہ عالم کا تاج میکسیکو کی فاطمہ بوش نے اپنے نام کرلیا، مگر ندین ایوب کے دل میں سب سے بڑا فخر یہ ہے کہ وہ فلسطین کی نمائندہ بن کر دنیا کے سامنے آئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ صرف ایوارڈ کی بات نہیں، میرا اصل مشن اپنے لوگوں کی آواز بننا ہے اور وہ تاج میں پہلے ہی جیت چکی ہوں۔ لیکن بطور فلسطینی خاتون، ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا میرا فرض ہے۔ سوشل میڈیا صارفین بھی ندین کے مؤقف کی تائید کرتے نظر آئے۔ متعدد صارفین نے دعویٰ کیا کہ مِس یونیورس ایپ اُن کے ووٹ قبول نہیں کر رہی تھی، کریش ہو رہی تھی، یا انہیں فری ووٹ استعمال کرنے سے روک رہی تھی، جس سے شکوک مزید گہرے ہوگئے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ 2025 وہ پہلا سال تھا جب فلسطین نے مِس یونیورس میں شرکت کی، اور ندین ایوب ٹاپ 30 میں شامل ہوکر تاریخ رقم کر گئیں۔ اس تاریخی قدم کے باوجود مقابلے پر لگنے والے دھاندلی کے سائے اب بھی گہرے ہیں۔







Discussion about this post