سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر دیا گیا دھرنا اب ختم کرنے کی طرف جا رہے ہیں ۔ یہ وہ احتجاج تھا جو بانی پی ٹی آئی کی صحت، خاص طور پر آنکھوں کی سنگین حالت کے خلاف اٹھایا گیا تھا، اور جس نے پورے ملک کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی تھی۔ اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اراکین پارلیمنٹ نے اس احتجاج کو بانی کی صحت کے معاملے پر شروع کیا تھا۔ ہم نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، مطالبہ کیا کہ ذاتی معالجین کو ان تک رسائی دی جائے تاکہ مناسب علاج ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے دیکھا کہ پارلیمنٹ کو جیل خانے کی شکل دے دی گئی تھی ۔ راستے بند کر دیے گئے، اور احتجاج کرنے والوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہو سکتی ہے ۔ آپ انہیں ان کی مرضی کے ڈاکٹروں سے چیک کروائیں، یہ بنیادی حق ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جب آنکھوں سے متعلق تشویشناک خبر آئی تو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے بھوک ہڑتال کا اعلان کیا، اور یہی وجہ تھی کہ ہم نے احتجاج کو اس نتیجے تک پہنچایا کہ ذاتی معالجین کو رسائی دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہنوں کے جذبات بالکل درست ہیں ۔ انہیں فوری ملاقات کی اجازت دی جائے۔ بانی کی آنکھوں میں بہتری کی امید ہے، اور انہیں شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے جہاں بہترین علاج ممکن ہو۔







Discussion about this post