پاکستان کی سیاسی فضا میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے بانی چیئرمین کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن کی نئی قیادت کے لیے اپنے پتے کھول دیے۔ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی جبکہ علامہ راجہ ناصر عباس کو سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر باضابطہ طور پر نامزد کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نامزدگی کے خطوط آج (منگل) دونوں ایوانوں کے سیکریٹریٹ میں جمع کرائے جا رہے ہیں، جس کے ساتھ ہی ایوانوں میں اپوزیشن کی نئی سمت متعین ہونے جا رہی ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پشاور ہائی کورٹ نے عمر ایوب خان اور شبلی فراز کی نااہلی کے خلاف جاری حکمِ امتناع ختم کر دیا ، دونوں ہی ایوانوں میں اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ بانی چیئرمین کی براہِ راست ہدایت پر کیا گیا۔ ان کے مطابق قومی اسمبلی کے لیے نامزدگی کا خط پیر کو جبکہ سینیٹ کے لیے منگل کے روز جمع کرایا جائے گا۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ “محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس دونوں اصولوں کے پیکر اور تجربہ کار سیاستدان ہیں۔ ایسے وقت میں جب ملک بحرانوں سے گزر رہا ہے، ایک نڈر اور واضح موقف رکھنے والے رہنما ہی عوام کی حقیقی نمائندگی کر سکتے ہیں۔” ذرائع کے مطابق پارٹی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بھی اس فیصلے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یاد رہے کہ عمر ایوب خان اور شبلی فراز کی نااہلی کے بعد بانی پی ٹی آئی نے 20 اگست کو ہی محمود خان اچکزئی اور اعظم سواتی کو اپوزیشن قیادت کے لیے نامزد کرنے کا عندیہ دے دیا تھا، اور اب وہ فیصلہ حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔







Discussion about this post