قومی اسمبلی میں ایک اہم سماجی اور قانونی پیش رفت کے طور پر بیوی کو گھر سے نکالنے پر قید اور جرمانے کی سزا دینے کا بل پیش کر دیا گیا۔ یہ مجوزہ بل پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شرمیلا فاروقی نے پیش کیا۔ بل میں تعزیراتِ پاکستان میں سیکشن 298-ڈی کے نام سے نئی شق شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت شوہر یا گھر کا کوئی بھی فرد اگر غیر منصفانہ طور پر خاتون کو گھر سے نکالے گا تو یہ ایک باقاعدہ جرم تصور ہوگا۔ بل کے مطابق جرم ثابت ہونے پر 3 سے 6 ماہ قید اور 2 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ اس کے مقدمات کی سماعت فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کرے گا۔

یہ مجوزہ ترمیم فوجداری قانون ترمیمی بل 2025 کا حصہ ہے، جسے ڈپٹی اسپیکر نے مزید غور و خوض کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا ہے۔ یہ اقدام گھریلو تشدد اور خواتین کے بنیادی حقوق کی پامالی کے خلاف ایک اہم قانونی ہتھیار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد خواتین کو غیر منصفانہ طور پر بے گھر ہونے سے بچانا ہے۔







Discussion about this post