انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے منتظم جج نے مصطفیٰ عامر قتل کیس کو انسداد دہشت گردی عدالت نمبر 16 منتقل کر دیا، جس کے بعد کیس کی باقاعدہ سماعت ٹرائل کورٹ میں ہوگی۔
پس منظر:
6 جنوری 2025 کو ڈیفنس کراچی سے لاپتہ ہونے والے نوجوان مصطفیٰ عامر کو اس کے دوست ارمغان قریشی نے بے دردی سے قتل کر دیا۔ قتل کے بعد ملزمان نے لاش بلوچستان کے حب علاقے میں لے جا کر جلا دی۔
ابتدائی طور پر مقدمہ گمشدگی کا درج ہوا، تاہم 25 جنوری کو تاوان کی کال موصول ہونے اور لاش کی نشاندہی پر مقدمے کو اغوا برائے تاوان اور پھر قتل میں تبدیل کیا گیا۔

گرفتار ملزمان:
-
مرکزی ملزم: ارمغان قریشی
-
aشریک ملزم: شیراز
دونوں ملزمان نے پولیس اور میڈیا کے سامنے قتل کا اعتراف کیا، مگر جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے بیان دینے سے انکار کر دیا۔
گواہ کا بیان:
سٹی کورٹ کراچی میں پیشی کے دوران گواہ غلام مصطفیٰ نے مرکزی ملزم کی شناخت کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ:
"بنگلے میں ‘باس’ رہتے تھے، ملزم ارمغان اوپر والے فلور پر رہتا تھا، کھانا آن لائن آتا تھا، گیٹ ریموٹ سے کھلتا تھا۔ ہمیں جب ضرورت پڑتی، باس بلاتے تھے۔”
تفتیشی حقائق:
-
مصطفیٰ عامر کو قتل سے کچھ گھنٹے قبل انسداد منشیات عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
-
بعد ازاں عدالت نے اسے منشیات کیس سے بری کر دیا۔
-
تفتیشی افسر کی رپورٹ کے مطابق، مصطفیٰ کو 31 جنوری 2024 کو گرفتار کیا گیا تھا اور 20 مارچ 2024 کو ضمانت بھی مل گئی تھی۔







Discussion about this post