میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ شاہراہِ بھٹو اور حب کینال پر بے بنیاد تنقید کی جا رہی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ شاہراہِ بھٹو کے تین میں سے دو فیز مکمل ہو چکے ہیں اور ٹریفک رواں دواں ہے، جبکہ تیسرے فیز پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ان کے مطابق، وہی لوگ طعنے دے رہے ہیں جنہوں نے اپنے قائد کی بھی عزت نہ کی۔ مرتضیٰ وہاب نے واضح کیا کہ بحران کے وقت حدود و اختیارات نہیں دیکھے جاتے، کام کیا جاتا ہے اور سربراہی لی جاتی ہے، اور وہ یہ ذمہ داری اٹھا رہے ہیں۔ ترجمان وزیراعلیٰ سندھ نے بھی سختی سے اس تاثر کو رد کیا کہ بارش کے باعث شاہراہ بھٹو میں شگاف پڑا ہے۔ ترجمان کے مطابق حب کینال کا متاثرہ حصہ آج رات تک مکمل طور پر بحال کر دیا جائے گا، پرانی کینال زیر تعمیر ہے اور صرف 20 میٹر کا حصہ متاثر ہوا ہے۔ میئر کراچی کا کہنا تھا کہ ہماری انتظامیہ کسی علاقے کے ساتھ تفریق نہیں کرتی۔ ہم ہر جگہ کام کر رہے ہیں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک کمانڈ کے تحت ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ ان کے مطابق، "سیاسی اداکار آفات کے وقت صرف بیان بازی کرتے ہیں، منجن بیچنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہم میدانِ عمل میں کھڑے ہیں۔” مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں جا کر سیاست نہیں کی بلکہ عوام کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ "تنقید کرنے والوں سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، ہمارا کام شہر کو بہتر بنانا ہے۔” انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں لیاری اور ملیر ندی کو کبھی اس طرح بہتے نہیں دیکھا، مگر کراچی کے عوام کو ریلیف دینا ہمارا عزم ہے۔ ان کے مطابق قائد آباد والا فیز زیر تعمیر ہے جو جلد مکمل ہوگا، حب کینال کا پرانا حصہ تعمیر ہو چکا ہے اور 22 کلومیٹر کا نیا حصہ بھی مکمل کیا گیا ہے۔

میئر کراچی نے کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ "بغضِ پیپلز پارٹی” کے بعد اب "بغضِ کراچی” میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ "پنجاب میں کسی نے بھٹو یا زرداری پر تنقید نہیں کی، لیکن کراچی کے معاملے پر بلا وجہ شور مچایا جاتا ہے۔” انہوں نے کہا کہ ماضی میں 2003، 2013 اور 2020 کی بارشوں میں کراچی کی کیا حالت ہوئی، یہ سب کے سامنے ہے۔ "میں اس شہر کی سڑکوں کا ذمہ دار ہوں اور نکمے لوگ صرف تنقید کرتے ہیں۔” مرتضیٰ وہاب نے اعلان کیا کہ اتوار سے شہر کی سڑکوں کی مرمت اور بحالی کا کام دوبارہ شروع ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق 106 سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے پر کام جاری ہے، مگر بارش کے باعث نقصان بڑھ گیا ہے۔ پہلے ہی 75 سے 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے لیکن اب مزید رقم درکار ہوگی، جس کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ سے بات چیت کی جائے گی۔ میئر نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے زیر انتظام ٹاؤنز تعاون کریں تو مسائل کے حل میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔ "یہ شہر ہمارا ہے، اور ہم سب کو مل کر اس کے مسائل حل کرنا ہوں گے۔”







Discussion about this post