کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مونس علوی نے خاتون ملازمہ کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزامات پر صوبائی محتسب کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ صوبائی محتسب کا فیصلہ یکطرفہ، جانبدارانہ اور حقائق کے منافی ہے، اور اس میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ مونس علوی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ محتسب کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے اور فیصلے پر عمل درآمد روکا جائے۔ گزشتہ روز محتسب اعلیٰ سندھ نے مونس علوی پر خاتون کو ہراساں کرنے کا الزام ثابت ہونے کے بعد انہیں عہدے سے برطرف کرنے اور 25 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ مونس علوی نے مذکورہ خاتون کو نہ صرف ہراساں کیا بلکہ اسے ذہنی دباؤ کا بھی نشانہ بنایا، جو کہ کام کی جگہ پر خواتین کے تحفظ کے قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔مزید یہ کہ اگر وہ ایک ماہ میں جرمانہ ادا نہ کریں تو ان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد ضبط کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔ کے الیکٹرک نے اس معاملے پر فی الحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم ذرائع کے مطابق کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے اور متبادل انتظامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، شکایت کنندہ خاتون نے محتسب کے فیصلے کو خواتین کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے طاقتور عہدوں پر بیٹھے افراد کو بھی قانون کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے۔







Discussion about this post