ایران کی تاریخ میں ایک نئی اور انتہائی اہم باب کا آغاز ہو چکا ہے جہاں مجتبیٰ خامنہ ای کو مجلس خبرگان کی جانب سے نئے سپریم لیڈر کے طور پر منتخب کر لیا گیا ہے۔ یہ تقرری اس وقت سامنے آئی جب ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری شدید جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے، اور ان کے والد آیت خامنہ ای کی شہادت کے صرف چند دن بعد یہ فیصلہ ہوا۔ پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے فوری طور پر ایک طاقتور بیان جاری کرتے ہوئے مجتبیٰ خامنہ ای کو مبارک باد دی اور تاحیات وفاداری، مکمل اطاعت اور ہر حکم کی بجا آوری کا عہد کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ نئے رہنما کے ساتھ مخلصانہ طور پر کھڑے ہیں اور اسلامی انقلاب کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ ایران کی مسلح افواج نے بھی اسی جذبے کے ساتھ نئی قیادت کو تسلیم کیا اور وفاداری کا اظہار کیا، جو ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کی متحدہ حمایت کی واضح علامت ہے۔ یہ اعلان 88 رکنی مجلس خبرگان کی جانب سے کیا گیا، جس نے اسے ایک فیصلہ کن ووٹ قرار دیا۔ بیان میں زور دیا گیا کہ ایران کا اسلامی نظام کسی ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ انقلاب کی تحریک اب بھی زندہ اور جاری رہے گی۔ مجتبیٰ خامنہ ای، جو 56 سالہ ایک درمیانی درجے کے عالم دین ہیں، طویل عرصے سے پس پردہ طاقتور شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ قم کے مذہبی مدارس میں تعلیم یافتہ، انہیں پاسداران انقلاب اور سکیورٹی اداروں میں گہرا اثر و رسوخ حاصل ہے، حالانکہ وہ کبھی کوئی باضابطہ سرکاری عہدہ سنبھال چکے نہیں۔ ان کی تقرری سخت گیر لائن کے تسلسل کی نشاندہی کرتی ہے، جو خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تقرری پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے پہلے ہی کہا تھا کہ نئے رہنما کو امریکہ کی منظوری درکار ہے، ورنہ وہ زیادہ دیر اقتدار میں نہیں ٹھہر سکیں گے۔ ٹرمپ نے مجتبیٰ خامنہ ای کو "غیر قابل قبول” قرار دیا اور کہا کہ جنگ کا فیصلہ اب بھی امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھ میں ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ تقرری ٹرمپ کے مطالبات کے برعکس ایک براہ راست چیلنج ہے، جو ایران کی مزاحمتی پالیسی کو مزید سخت کر سکتی ہے۔یہ لمحہ ایران کے لیے ایک نازک موڑ ہے جہاں نئی قیادت جنگ کے شعلوں میں قدم رکھ رہی ہے۔ پاسداران اور افواج کی مکمل حمایت سے مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت مضبوط بنیادوں پر قائم ہو گئی ہے، مگر خطے کی کشیدگی اب نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ امن کی امید کمزور پڑ رہی ہے، جبکہ طاقت کا یہ نیا توازن دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔







Discussion about this post