وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خواتین کے عزم اور حوصلے کو پنجاب کی تقدیر بدلنے والی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پنجاب کی بیٹی ڈٹ جائے تو کوئی رکاوٹ اس کے راستے میں حائل نہیں رہ سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی بیٹی کسی سے کم نہیں، وہ اگر محنت اور لگن کے ساتھ آگے بڑھے تو ہر خواب کو حقیقت میں بدل سکتی ہے۔ لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کی خواتین بے پناہ صلاحیتوں کی حامل ہیں اور یہی خواتین اپنی ہمت، قابلیت اور عزم سے صوبے کا مستقبل سنوار سکتی ہیں۔ انہوں نے اعتماد سے کہا کہ پنجاب کی خواتین جو ٹھان لیں، اسے اپنی قوتِ ارادی سے حاصل کرنا جانتی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے صحت کے شعبے میں ایک انقلابی وژن پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اب حکومت بیمار افراد کے اسپتال آنے کا انتظار نہیں کرے گی، بلکہ علاج خود مریضوں کے دروازے تک پہنچایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کا کوئی شہر، کوئی گلی اور کوئی محلہ ایسا نہیں بچے گا جہاں تک سرکاری ٹیمیں نہ پہنچ سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وسائل کی کمی اصل مسئلہ نہیں، ہر صوبے کے پاس پیسہ موجود ہے، کمی صرف نیت، محنت اور سنجیدہ ارادے کی ہوتی ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ جب 25 ہزار کمیونٹی ہیلتھ انسپیکٹرز عملی میدان میں اتریں گی تو بیماریاں خود پنجاب سے دور بھاگنے پر مجبور ہو جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ فیلڈ اسپتال گاؤں گاؤں جا کر لوگوں کا علاج کر رہے ہیں، جبکہ ستھرا پنجاب منصوبہ نہ صرف صوبے بلکہ دنیا بھر میں اپنی مثال آپ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ تمام اقدامات ایک مضبوط، صحت مند اور باوقار پنجاب کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے ملازمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت آپ کی تنخواہ پچاس ہزار ہے، آپ مجھے عملی کام کر کے دکھائیں، میں خود آپ کی تنخواہیں بڑھاؤں گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جو لوگ خلوص اور محنت سے کام کریں گے، ان کی حوصلہ افزائی خود حکومت کرے گی۔ مریم نواز نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ چاہتی ہیں عوام کو چل کر اسپتال نہ جانا پڑے، بلکہ اسپتال خود عوام کے پاس آئیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں کی محنت سے یہ جاننا ممکن ہوگا کہ پنجاب میں کون سی بیماریاں جنم لے رہی ہیں اور ان کا بروقت تدارک کیسے کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب میں جدید کارڈیالوجی اسپتال قائم کیے جا رہے ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ آج جھنگ جیسے شہر میں بھی دل کے امراض کے لیے اسپتال بن رہا ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ ایک مریم آج آپ کے سامنے کھڑی ہے، اور میرے سامنے پنجاب کی ہزاروں مریمیں کھڑی ہیں، جو اس صوبے کا مستقبل روشن کریں گی۔







Discussion about this post