خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ کی خالی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حمایت یافتہ امیدوار مشال اعظم یوسفزئی نے واضح برتری حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کر لی۔ ریٹرننگ افسر کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق مشال یوسفزئی نے 86 ووٹ حاصل کیے جبکہ اپوزیشن اتحاد کی امیدوار مہتاب ظفر 53 ووٹ لے سکیں۔ آزاد امیدوار صائمہ خالد کو صرف ایک ووٹ ملا، جبکہ دو ووٹ مسترد قرار دیے گئے۔ یہ نشست پی ٹی آئی کی سابق سینیٹر ثانیہ نشتر کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ انتخاب میں کسی بھی امیدوار کو جیتنے کے لیے 73 ووٹ درکار تھے۔

انتخابی معرکہ، سیاسی جوڑ توڑ
انتخاب سے قبل یہ تاثر تھا کہ مشال یوسفزئی کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ متحدہ اپوزیشن نے آزاد امیدوار مہتاب ظفر کی حمایت کا اعلان کیا تھا، جبکہ تحریک انصاف سے ہی تعلق رکھنے والی صائمہ خالد نے بھی دستبردار ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم، حکومتی جماعت کی مضبوط حکمت عملی اور اتحاد کے باعث مشال یوسفزئی نے کامیابی حاصل کی۔ پولنگ کا آغاز خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی کے ووٹ کاسٹ کرنے سے ہوا۔ پولنگ کے دوران وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان ملاقات بھی ہوئی، جو سیاسی حلقوں میں خاصی اہمیت اختیار کر گئی۔

مشال یوسفزئی کا ردعمل: "یہ نظریے کی فتح ہے”
کامیابی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشال یوسفزئی نے کہا:
"میرے قائد نے مجھ پر اعتماد کیا، میں ملک کی کم عمر ترین سینیٹر بن گئی۔ ۔”
انہوں نے کہا کہ ان کی اپنے قائد سے پانچ ماہ سے ملاقات نہیں ہوئی، اور اس کامیابی کا کریڈٹ پارٹی رہنماؤں، کارکنوں اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو جاتا ہے۔







Discussion about this post