نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے ایک مرتبہ پھر افغان خواتین کے حقوق کے لیے مؤثر آواز بلند کرتے ہوئے عالمی کھیلوں کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور افغان خواتین ایتھلیٹس کے لیے باعزت اور محفوظ کھیلوں کے مواقع فراہم کریں۔ انہوں نے یہ بات ایک خصوصی انٹرویو میں امریکی نشریاتی ادارے سی این این اسپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ افغان خواتین کھلاڑیوں کو میدان میں دیکھنا طالبان کے جبر کے خلاف ایک خاموش مگر طاقتور مزاحمت ہے۔ انہوں نے کہا:
"جب ہم افغان خواتین کھلاڑیوں کو کھیلنے کا موقع دیتے ہیں، تو یہ طالبان کی سخت گیر پالیسیوں کے خلاف ایک واضح پیغام ہوتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ جب دنیا بھر میں خواتین کی کھیلوں میں کامیابیوں کا جشن منایا جا رہا تھا، اسی وقت افغان خواتین فٹبال ٹیم اپنی ہی سرزمین پر کھیلنے سے محروم تھی۔ ان کے بقول،
"ہر بار جب کوئی افغان لڑکی پریکٹس کرتی ہے یا کھیلنے کا حق مانگتی ہے، تو وہ دراصل طالبان کے ظلم کے خلاف عملی مزاحمت کرتی ہے — اور یہ بہادری ہے۔”
ملالہ نے فیفا، آئی سی سی اور دیگر عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ صرف بیانات کی حد تک نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ان خواتین کو پلیٹ فارم مہیا کریں جنہیں اپنے وطن سے بےدخل ہونا پڑا۔ ان کا کہنا تھا:
"کھیل انہی کھلاڑیوں سے بنتا ہے، اگر وہ نہ ہوں تو کھیل کی روح ختم ہو جاتی ہے۔ ہمیں ان کے لیے راستے اور مواقع تلاش کرنے ہوں گے۔”

اقوامِ متحدہ کے مطابق طالبان کے اگست 2021ء میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان دنیا کا سب سے زیادہ خواتین مخالف ملک بن چکا ہے۔ ملک میں لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندی، یونیورسٹیوں میں داخلے پر قدغن، محرم کے بغیر سفر پر پابندی، اور خواتین کے لیے پارک، جم، اور دیگر عوامی مقامات تک رسائی بھی روک دی گئی ہے۔ طالبان کے اقتدار کے بعد افغان خواتین فٹبال ٹیم کو آسٹریلیا میں سیاسی پناہ لینا پڑی۔ 2023ء میں ملالہ یوسفزئی نے فیفا ویمنز ورلڈ کپ کے دوران اس ٹیم سے ملاقات کی اور فیفا سے مطالبہ کیا کہ ان کھلاڑیوں کو باضابطہ طور پر عالمی سطح پر شناخت دی جائے۔ فیفا کی جانب سے حالیہ دنوں میں افغان خواتین فٹبال کے لیے ایکشن اسٹریٹجی کا اعلان کیا گیا، تاہم تاحال افغان خواتین قومی ٹیم کو باضابطہ حیثیت نہیں دی گئی۔ دوسری جانب، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے رواں سال اپریل میں افغان خواتین کرکٹرز کے لیے امدادی فنڈ اور معاونت کی فراہمی کا اعلان کیا ہے، لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ
"جب تک افغانستان میں خواتین کو تعلیم اور کھیل کی اجازت نہیں دی جاتی، تب تک مردوں کی قومی ٹیم پر عالمی سطح پر پابندی عائد کی جائے۔”







Discussion about this post