پاکستان کی ہمت اور امید کی علامت، دنیا کی سب سے کم عمر نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے اقوام متحدہ کے مقدس ایوان میں ایک ایسی آواز بلند کی جو تاریخ کے اوراق پر سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔ اقوام متحدہ کمیشن برائے خواتین کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملالہ نے دنیا بھر کی خواتین اور بچوں کے لیے مساوی انصاف کا مطالبہ کیا۔ ایک ایسی آواز جو نہ صرف دل کو چھوتی ہے بلکہ ضمیر کو جھنجھوڑتی بھی ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ انسانی حقوق کا دارومدار کسی ملک کی جغرافیائی حدود، سیاسی مفادات یا طاقت کے توازن پر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ حقوق ہر انسان کے لیے یکساں اور ناقابل تنسیخ ہیں، چاہے وہ کسی بھی رنگ، نسل یا مذہب کا ہو، کسی بھی کونے میں سانس لے رہا ہو۔ ملالہ نے اپنے خطاب میں ایرانی شہر میناب کے اسکول پر مبینہ فضائی حملے کا ذکر کرتے ہوئے گہری تشویش کا اظہار کیا، جہاں کمسن طالبات اور ان کی اساتذہ سمیت 175 معصوم جانیں لے لی گئیں، ایک ایسی سانحہ جو انسانی تاریخ کا ایک تاریک باب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی طالبات کے جاں بحق ہونے اور زخمی ہونے کی خبر نے ان کے دل کو شدید صدمہ پہنچایا ہے، اور وہ متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہیں۔ ان کی آواز میں درد تھا، مگر ساتھ ہی ایک پختہ عزم بھی تھا کہ یہ خون رائیگاں نہیں جائے گا۔
View this post on Instagram
ملالہ نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ بچوں کے تحفظ کے لیے نہ صرف الفاظ بلکہ ٹھوس اور فوری اقدامات کیے جائیں کیونکہ سکول وہ مقدس جگہ ہے جہاں خواب اگتے ہیں، نہ کہ جہاں خوابوں کو گولیاں ماری جائیں۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں کو سخت تنبیہ کی کہ غزہ، افغانستان اور ایران میں خواتین کے ساتھ ہونے والے صنفی امتیاز کو اب انسانیت کے خلاف جرم کے طور پر تسلیم کیا جائے ۔یہ کوئی سیاسی معاملہ نہیں، بلکہ ایک اخلاقی بحران ہے جسے نظر انداز کرنے کی گنجائش اب ختم ہو چکی ہے۔






Discussion about this post