نوبیل انعام یافتہ پاکستانی ہیروئن ملالہ یوسفزئی نے ایک بار پھر دنیا کو جھنجھوڑ دیا ہے. آکسفورڈ یونیورسٹی کے مشہور لیڈی مارگریٹ ہال میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے بعد اب ملالہ کی شاندار پورٹریٹ بھی آویزاں کر دی گئی ہے ۔ یہ پاکستان کے لیے ایک تاریخی اور دل فریب اعزاز ہے۔
View this post on Instagram
خصوصی تقریب میں یہ پورٹریٹ ان ویل کیا گیا، جو آرٹسٹ Isabella Watling نے بنایا اور آکسفورڈ پاکستان پروگرام کے تعاون سے اسپانسر حامد اسماعیل نے ممکن بنایا۔ ملالہ اب اس عظیم ادارے میں دوسری پاکستانی خاتون بن گئی ہیں جن کی تصویر وہاں جگہ پا رہی ہے ۔ یہ صرف ایک تصویر نہیں، بلکہ لڑکیوں کی تعلیم اور انسانی حقوق کی جدوجہد کی ایک ابدی علامت ہے۔ اس موقع پر ملالہ نے اپنے پرجوش انداز میں کہا کہ طالبان لڑکیوں اور خواتین کو بنیادی حقوق سے محروم کر رہے ہیں، اور افغانستان میں تعلیم پر پابندی ایک انتہائی خطرناک صورتحال بن چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ طالبان کا لڑکیوں کو تعلیم سے روکنا اسلام کے حقیقی پیغام کے بالکل خلاف ہے ۔ اسلام تو ہر انسان کو، مرد ہو یا عورت، علم حاصل کرنے کا حق دیتا ہے۔

ملالہ نے دنیا سے مطالبہ کیا کہ تمام ممالک طالبان کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم نہ رکھیں، بلکہ انسانی حقوق کی بنیاد پر دباؤ بڑھائیں تاکہ افغان لڑکیوں کو ان کا جائز حق مل سکے۔ انہوں نے افغان لڑکیوں کی ہمت کی تعریف کی جو خفیہ طریقوں سے اور آن لائن تعلیم حاصل کر کے آگے بڑھ رہی ہیں۔ ملالہ نے واضح کیا کہ وہ ان کے ساتھ کھڑی ہیں، اور ان کی جدوجہد کو آواز دیتی رہیں گی۔ بے نظیر بھٹو کو دنیا بھر کی خواتین کے لیے ایک روشن مثال قرار دیتے ہوئے ملالہ نے کہا کہ یہ اعزاز نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے۔ ملالہ کے والدین نے بھی اس لمحے پر شکر اور خوشی کا اظہار کیا، جبکہ پورٹریٹ کے اسپانسر نے اسے پاکستان کی ترقی اور لڑکیوں کی تعلیم کی فتح قرار دیا۔ یہ تقریب پاکستان کی بیٹیوں کی طاقت، ہمت اور عالمی سطح پر ان کی پہچان کی ایک زندہ گواہی ہے۔ ملالہ یوسفزئی نہ صرف سوات کی ایک لڑکی تھیں، بلکہ اب وہ دنیا بھر کی لڑکیوں کی امید اور آواز بن چکی ہیں۔ پاکستان کی یہ بیٹی آکسفورڈ کی دیواروں پر چمک رہی ہے، اور اس کی روشنی سے لاکھوں خواب روشن ہو رہے ہیں








Discussion about this post