آسٹریلیا کی سب سے بڑی مسجد، سڈنی کے مغربی علاقے لکیمبا میں واقع عظیم الشان لکیمبا مسجد، ماہ رمضان کی آمد پر ایک سنگین اور دلخراش دھمکی کا شکار ہو گئی ہے، جس نے مسلم کمیونٹی میں گہری تشویش اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔ مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز مسجد کو بھیجا گیا یہ دھمکی آمیز خط انتہائی نفرت انگیز تھا۔ اس میں مسلمانوں کو "مسلمان نسل” کو مارنے کی کھلی دھمکی دی گئی تھی، ساتھ ہی ایک سور کی تصویر بھی شامل تھی جو توہین آمیز علامت کے طور پر استعمال کی گئی۔ یہ خط رمضان کے آغاز سے عین پہلے پہنچا، جب مسجد میں ہر رات تقریباً پانچ ہزار نمازیوں کی آمد متوقع ہے۔ یہ کوئی تنہا واقعہ نہیں، یہ تیسرا دھمکی آمیز خط ہے جو ایک ماہ کے اندر مسجد کو موصول ہوا۔ چند ہفتے قبل بھیجے گئے ایک ای میل میں مسجد کو جلتے ہوئے دکھایا گیا تھا، جہاں نمازیوں کو آگ میں گھرے دکھایا گیا تھا، جو خوف اور نفرت کی انتہا کا مظہر تھا۔ اس سے قبل جنوری میں موصول ہونے والے خط پر نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک 70 سالہ شخص کو گرفتار کیا اور اس پر فرد جرم عائد کی، جس میں موت یا شدید جسمانی نقصان کی دھمکی دینے کے الزامات شامل تھے۔ پولیس نے فوری طور پر تفتیش شروع کر دی ہے۔

تازہ خط کو فرانزک ٹیسٹنگ کے لیے بھیجا گیا ہے، جبکہ مسجد سمیت تمام مذہبی مقامات اور کمیونٹی تقریبات پر نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔ نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے کمشنر نے یقین دلایا ہے کہ رمضان کے دوران مسلم کمیونٹی کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ مسجد کو چلانے والی لبنانی مسلم ایسوسی ایشن (ایل ایم اے) نے آسٹریلوی حکومت سے فوری اپیل کی ہے کہ مسجد کی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اضافی گارڈز کی تعیناتی اور جدید سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں۔ ایسوسی ایشن کے سیکریٹری نے بتایا کہ کمیونٹی میں بے چینی بڑھ رہی ہے، اور لوگ رمضان کی عبادات کے لیے مسجد آنے میں خوف محسوس کر رہے ہیں۔ ایک ایسی صورتحال جو کرونلا فسادات کے بعد سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔لکیمبا علاقہ، جہاں 60 فیصد سے زائد آبادی مسلمان ہے، آسٹریلیا کی سب سے بڑی مسلم کمیونٹی کا مرکز ہے۔ کینٹربری بینک ٹاؤن کونسل کے میئر بلال الحائک نے کہا کہ یہ دھمکیاں کمیونٹی کو شدید پریشان کر رہی ہیں۔ آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانی نے بھی ان نفرت انگیز دھمکیوں کی شدید مذمت کی ہے۔







Discussion about this post