لاہور کا شہرِ رنگ و نور، جو ہمیشہ اپنی رونق اور خوشیوں کے لیے جانا جاتا ہے، اب اسلام آباد کے دل دہلا دینے والے سانحے کے سائے میں گہری تشویش اور انتہائی احتیاط کی کیفیت میں ڈوبا ہوا ہے۔ سانحہ اسلام آباد کی گونج ابھی تک فضاؤں میں گونج رہی ہے کہ صوبہ پنجاب کے دارالحکومت میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے پورے شہر میں سکیورٹی کے حصار کو مزید مضبوط اور ناقابلِ تسخیر بنانے کے سخت احکامات جاری کر دیے ہیں۔ انہوں نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ امام بارگاہوں، مساجد، اور دیگر مقدس مقامات پر کوئی بھی لمحہ غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ عبادت گاہیں ہمارے ایمان کی علامت ہیں، اور ان کی حفاظت مقدس فریضہ ہے۔ سی سی پی او نے خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہر عبادت گاہ کے اطراف میں نفری بڑھائی جائے، داخلہ و اخراج پر سخت نگرانی ہو، اور کسی بھی شک کی صورت میں فوری ایکشن لیا جائے۔شہر کے رش والے مقامات، مارکیٹوں، بازاروں، اور پبلک جگہوں پر بھی سیکیورٹی کا جال بچھایا جا رہا ہے تاکہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ داخلی اور خارجی راستوں پر چیکنگ کو انتہائی سخت کر دیا گیا ہے۔ مشتبہ افراد اور گاڑیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ ہاٹ اسپاٹ علاقوں میں پولیس ٹیمیں دن رات متحرک رہیں گی۔ سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں کا نیٹ ورک بھی اب پہلے سے زیادہ چوکنا ہے، جو شہر کی شاہراہوں اور اہم پوائنٹس پر مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔

سی سی پی او لاہور نے فیلڈ افسران کو حکم دیا ہے کہ وہ دفتر کی کرسیوں سے اٹھ کر گلیوں میں اتریں، سکیورٹی انتظامات کی خود جائزہ لیں، اور ہر لمحے کی مانیٹرنگ کریں۔ ان کا پیغام بالکل واضح ہے: "امن و امان ہماری اولین ترجیح ہے، اور شہریوں کے تعاون سے ہر ممکن خطرے کو جنم لینے سے پہلے ہی کچل دیا جائے گا۔”انہوں نے شہریوں سے بھی دل کی گہرائیوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کہیں کوئی مشکوک حرکت، شخص یا چیز نظر آئے تو فوراً ہیلپ لائن 15 پر کال کریں یا قریبی تھانے کو اطلاع دیں۔ "آپ کی ایک اطلاع کسی بڑے سانحے کو روک سکتی ہے،” انہوں نے کہا، "یہ جنگ سب کی مشترکہ جنگ ہے۔”اسلام آباد کے اس سانحے نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، مگر لاہور کی پولیس اور انتظامیہ اسے ایک سبق کی طرح لے رہی ہے۔ اب شہر کی ہر گلی، ہر بازار، ہر عبادت گاہ پر ایک نئی چوکنا نگاہ ہے۔ امید ہے کہ شہریوں کا تعاون اور پولیس کی بھرپور تیاری سے یہ شہر امن کی مثال بن کر ابھرے گا، اور کوئی بھی تاریک ہاتھ اس کی روشنی کو مدھم نہ کر سکے گا۔







Discussion about this post