تاریخ کے اوراق میں ایک نیا باب رقم ہونے جا رہا ہے۔ دفاعی میدان میں سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے غیرمعمولی معاہدے کے بعد پاکستان نے اب معاشی تعاون کی سمت ایک اور بڑی پیشرفت کا اعلان کر دیا ہے مملکتِ سعودی عرب کو پاکستانی افرادی قوت کی برآمد دوگنی کرنے کا شاندار منصوبہ ترتیب دے دیا گیا ہے۔سرکاری حکام کے مطابق، یہ اقدام نہ صرف دونوں برادر ممالک کے درمیان معاشی و سیکیورٹی تعلقات کو نئی مضبوطی دے گا بلکہ خطے میں تعاون و ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔ اعداد و شمار خود بولتے ہیں کہ بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق، 2020 سے 2024 کے دوران 18 لاکھ 80 ہزار پاکستانی محنت کشوں نے سعودی عرب میں اپنی خدمات پیش کیں، جو پچھلے پانچ سال کے مقابلے میں 21 فیصد اضافہ ہے۔ اگلے سال سے یہ تعداد بڑھا کر سالانہ دس لاکھ کارکنان تک پہنچانے کا عزم کیا گیا ہے۔ پاکستان کی اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل اور بیورو آف امیگریشن مل کر ایک جامع حکمتِ عملی تیار کر رہے ہیں جس کے تحت افرادی قوت کی جدید تربیت، مہارتوں کی عالمی تصدیق، اور ای-ویزا نظام کی توسیع جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اس سلسلے میں دونوں ممالک میں مشترکہ تکنیکی تربیتی ادارے قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، تاکہ پاکستانی محنت کش دنیا کے کسی بھی معیار پر پورا اتریں۔ سعودی عرب، جو پہلے ہی پاکستانی محنت کشوں کا سب سے بڑا میزبان اور ترسیلاتِ زر کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے، نے رواں سال پاکستان کو 8.6 ارب ڈالر بھیجے — یہ رقم ملکی معیشت کے لیے ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں جاری ویژن 2030 کے ترقیاتی منصوبے اور 2034 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی جیسے بڑے اہداف کے باعث مملکت میں تعمیرات، ٹرانسپورٹ اور مہمان نوازی کے شعبوں میں افرادی قوت کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے اور پاکستان اپنی صلاحیت، محنت اور عزم سے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بہترین پوزیشن میں کھڑا ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار کی کہانی نہیں ، یہ دو برادر ملکوں کے بڑھتے اعتماد، تعاون اور ترقی کے ایک نئے عہد کی علامت ہے۔







Discussion about this post