خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل خان آفریدی نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے حق میں رکاوٹوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو باضابطہ خط ارسال کر دیا ہے۔ انہوں نے عدالتی حکم کے باوجود ملاقات کی اجازت نہ دینے اور بانی کے اہلِ خانہ، خصوصاً بہنوں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک پر انتہائی تحفظات کا اظہار کیا۔خط کے متن کے مطابق بانی کی بہنوں کو عدالتی اجازت نامے کے باوجود جیل گیٹ پر روک دیا گیا، اُن کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور بزرگ خواتین کو ایک کلو میٹر دور سڑک پر بٹھا کر اذیت ناک صورتحال سے دوچار کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے اسے ’’غیر انسانی، غیر اخلاقی اور عدالت کے واضح احکامات کی صریح خلاف ورزی‘‘ قرار دیا۔
سہیل آفریدی نے پنجاب حکومت سے چار مطالبات رکھتے ہوئے کہا کہ:
1۔ عدالتی احکامات پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے
2۔ اہلکاروں کی بدسلوکی میں ملوث ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے
3۔ جیل اور پولیس عملے کو واضح اور قانونی ہدایات فراہم کی جائیں
4۔ ملاقاتوں کے لیے باوقار اور شفاف نظام وضع کیا جائے

گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی کی بہنوں، پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں نے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کیا تھا، جہاں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ بعد ازاں علیمہ خان نے پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ پولیس نے ان کی بہن کو زمین پر گرا کر گھسیٹا، جس سے وہ بے ہوش ہونے کے قریب پہنچ گئیں۔ اسی صورتحال کے تناظر میں جمعرات کے روز خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سپیکر بابر سلیم سواتی، صوبائی عہدیداران، وزراء اور ارکانِ اسمبلی نے شرکت کی۔اجلاس میں اڈیالہ جیل کے باہر پیش آنے والے واقعات کو ’’شرمناک‘‘ اور ’’ناقابلِ برداشت‘‘ قرار دیتے ہوئے بانی کی تینوں بہنوں، صوبائی وزیر مینا خان، ایم این اے شاہد خٹک اور ایم پی اے عبدالسلام پر مبینہ تشدد کی شدید مذمت کی گئی۔







Discussion about this post