خیبرپختونخوا نے گاڑیوں کی رجسٹریشن کے پرانے طریقۂ کار کو یکسر بدل کر ایک انقلابی نظام متعارف کرا دیا ہے۔ اب گاڑی کا نمبر پلیٹ، گاڑی کے ساتھ نہیں بلکہ شہری کی اپنی ملکیت ہوگا بالکل شناختی کارڈ یا موبائل نمبر کی طرح۔ وزیر اعلیٰ نے ’’پرسنلائزڈ رجسٹریشن مارک سسٹم‘‘ کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے اسے صوبے کے لیے جدیدیت کی طرف ایک بڑا قدم قرار دیا۔ اس نئے نظام کے تحت جب گاڑی فروخت ہوگی، تو نمبر پلیٹ فروخت کنندہ کے پاس ہی رہے گی، خریدار اپنے لیے نیا نمبر اپلائی کرے گا۔ سب سے بڑی سہولت یہ ہے کہ شہری اپنا مخصوص نمبر تین سال تک بغیر کسی گاڑی کے اپنے پاس محفوظ رکھ سکے گا۔ یعنی اب پسندیدہ نمبر کی ملکیت ہمیشہ آپ کے ہاتھ میں رہے گی۔ ایکسائز حکام کے مطابق یہ ڈیجیٹل رجسٹریشن سسٹم جعلی نمبر پلیٹس، کلوننگ اور گاڑیوں کے غیر قانونی استعمال میں نمایاں کمی لائے گا۔ نہ صرف رجسٹریشن کا عمل تیز اور شفاف ہوگا بلکہ بدعنوانی کے دروازے بھی بند ہو جائیں گے۔

وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر محکمہ ایکسائز کو ہدایت دی کہ رجسٹریشن کے تمام مراحل کو مکمل طور پر آن لائن کیا جائے تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ’’پی آر ایم‘‘ سسٹم گاڑیوں کی نگرانی اور ریکارڈ کو محفوظ بنانے میں نہایت مؤثر ثابت ہوگا۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو ٹیکنالوجی کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو بھی مضبوط کرے گا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے منشیات کے خلاف کارروائیوں میں جان دینے والے اہلکاروں کے لیے پولیس کی طرز پر ’’شہید پیکج‘‘ کے اعلان کا بھی فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایکسائز محکمہ منشیات کے خاتمے کے لیے جس جرات سے کام کر رہا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ منشیات کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا جائے گا اور بڑے مگر مچھوں کو کسی صورت نہیں بخشا جائے گا۔ حکومت نے واضح اعلان کر دیا ہے کہ اس ناسور کا خاتمہ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ یہ نیا رجسٹریشن نظام صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ خیبرپختونخوا کے لیے ٹیکنالوجی، شفافیت اور قانون کی حکمرانی کی جانب پیش قدمی کا آغاز ہے۔






Discussion about this post