خیبرپختونخوا کے نو منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پہلا باضابطہ اجلاس صدارت کرتے ہوئے صاف اور دوٹوک پیغام دیا کہ صوبے میں گڈ گورننس، شفافیت، امن و انصاف اور عوامی مینڈیٹ کے احترام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ گزشتہ عام انتخابات میں عوام کے بجائے دباؤ کے آگے جھکنے والے سرکاری افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جب کہ عوام کے ساتھ کھڑے ہونے والے افسران کو ایوارڈز اور عزت کے ساتھ سرفراز کیا جائے گا۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری، آئی جی پی، اعلیٰ سول و پولیس حکام سمیت ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔ اجلاس میں گڈ گورننس روڈ میپ، امن و امان، انسدادِ بدعنوانی اور صوبے کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔
حکام نے بتایا کہ “گڈ گورننس روڈ میپ” کا مقصد عوامی خدمات کی فراہمی، امن و سلامتی اور معیشت کی بحالی کے لیے واضح عملدرآمدی فریم ورک تشکیل دینا ہے۔ ” انہوں نے کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی دہراتے ہوئے کہا کہ ریاستی ملازم عوام کا خادم ہے، اگر عوام خوش نہیں تو اہلکار عہدے پر باقی نہیں رہ سکتا۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ سفارش کلچر ختم کیا جائے، پوسٹنگ و تبادلوں میں میرٹ اور دو سالہ پالیسی پر سختی سے عمل ہوگا۔
ترقیاتی و تعلیمی اعلانات
وزیراعلیٰ نے ضم قبائلی اضلاع کے لیے اہم منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا:
-
ٹرائبل میڈیکل کالج اور ٹرائبل یونیورسٹی آف ماڈرن سائنسز کا قیام
-
تمام ضم اضلاع میں تحصیل سطح پر پلے گراؤنڈز کی تعمیر
-
ان علاقوں کے لیے سیف سٹی پراجیکٹ کا آغاز
-
ارشد شریف کے نام سے یونیورسٹی آف انویسٹیگیٹو اینڈ ماڈرن جرنلزم کا قیام
-
پشاور شہر کی بحالی و ترقی کے لیے “ریوائیول پلان” متعارف کرانا
امن و امان، پولیس اور آئینی آزادیوں پر مؤقف
وزیراعلیٰ نے کہا:
-
دہشتگردی کے خلاف پولیس کی قربانیاں تاریخ کا روشن باب ہیں، پولیس کو جدید آلات اور مکمل وسائل دیے جائیں گے
-
سیاسی بنیادوں پر ایف آئی آر یا 3 ایم پی او کے تحت گرفتاری نہیں ہوگی
-
آزادی اظہار ہر شہری کا آئینی حق ہے
-
پولیس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی جیلوں میں تشدد برداشت کیا جائے گا
انہوں نے وفاق پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ
“وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں نے دوبارہ دہشتگردی کو جنم دیا، ہمارے حصے کے فنڈز روکے گئے , ہمیں وسائل ملیں گے تو ہم دہشتگردی کے خلاف دوبارہ سینہ سپر ہوں گے۔”
آخر میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ وہ روایتی نہیں، نتیجہ خیز طرزِ حکمرانی لائیں گے تاکہ عوام محسوس کرے کہ تبدیلی پر ان کے ووٹ کی لاج رکھی گئی ہے۔ یہ پیغام صوبے میں ایک نئی سیاسی اور انتظامی نظم کے آغاز کا اعلان ہے۔







Discussion about this post