خیبرپختونخوا کے سیاسی منظرنامے میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں حزبِ اختلاف کے ارکان کو مشورہ دیا کہ وہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کے خلاف دائر اپنی درخواست واپس لے لیں۔ذرائع کے مطابق، اپوزیشن کے اراکین نے گورنر خیبرپختونخوا سے ملاقات کر کے وزیراعلیٰ کے انتخاب سے متعلق اپنی پٹیشن پر مشاورت کی، جس دوران فیصل کریم کنڈی نے سیاسی استحکام کے لیے درخواست واپس لینے کی تجویز دی۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے علی امین گنڈاپور نے وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دیا تھا، تاہم گورنر ہاؤس نے استعفیٰ موصول ہونے کی تردید کی تھی۔ بعد ازاں، علی امین گنڈاپور کا دستنوشتہ دوسرا استعفیٰ گورنر کو موصول ہوا، مگر دونوں استعفوں پر دستخطوں میں فرق کے باعث گورنر نے تصدیق کے لیے علی امین گنڈاپور کو ملاقات کے لیے طلب کیا۔اسی دوران، پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی قیادت نے اعلان کیا کہ علی امین گنڈاپور اپنا استعفیٰ دے چکے ہیں، اور نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے اسمبلی اجلاس بلا کر سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ منتخب کر لیا گیا۔ تاہم اپوزیشن نے انتخاب کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایس۔ ایم عتیق شاہ نے منگل کے روز اپنے فیصلے میں سہیل آفریدی کے انتخاب کو آئینی قرار دیتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا کو ہدایت دی کہ وہ بدھ کی شام چار بجے تک سہیل آفریدی سے حلف لیں، بصورتِ دیگر صوبائی اسمبلی کے اسپیکر آئین کے آرٹیکل 255(2) کے تحت حلف برداری کی تقریب انجام دیں۔ دوسری جانب، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی گورنر فیصل کریم کنڈی پر زور دیا کہ وہ عدالتی فیصلے پر عمل کریں۔
کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا:
“آپ کو خیبرپختونخوا جانا چاہیے، میں سندھ کے وزیراعلیٰ سے کہوں گا کہ وہ اپنا طیارہ آپ کو دے دیں تاکہ آپ عدالت کے حکم کے مطابق آئینی اور قانونی فریضہ ادا کر سکیں۔”

سیاسی مبصرین کے مطابق، گورنر کا اپوزیشن کو پٹیشن واپس لینے کا مشورہ اور بلاول بھٹو کا براہِ راست پیغام اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت صوبے میں سیاسی استحکام اور عدالتی فیصلے کے احترام پر زور دے رہی ہے۔خیبرپختونخوا کی سیاست ایک بار پھر نئے موڑ پر ہے ، ایک طرف اپوزیشن کی قانونی حکمتِ عملی، دوسری جانب گورنر کی مصالحتی کوششیں، اور ان سب کے بیچ مرکز کی خواہش کہ صوبے میں آئینی تسلسل اور سیاسی سکون بحال رہے۔







Discussion about this post