وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے کا برطانیہ کی ایئر سیفٹی لسٹ سے نکلنا ایک تاریخی سنگ میل ہے، جو وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت میں عبور کیا گیا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پیشرفت قومی وقار کی بحالی ہے، جسے تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ خواجہ آصف نے سابقہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کے بیان نے پی آئی اے کو نقصان پہنچایا۔ "انہوں نے اپنے ہی ادارے پر الزامات لگا کر بین الاقوامی پابندیوں کی راہ ہموار کی، جس سے ملک کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔” انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی تین سالہ محنت کے بعد اب پی آئی اے ایک بار پھر اپنے پاؤں پر کھڑی ہو رہی ہے۔ "اب سبز ہلالی پرچم ایک بار پھر فخر کے ساتھ فضاؤں میں بلند ہوگا۔”وفاقی وزیر نے بتایا کہ اگلا مرحلہ پی آئی اے کی نجکاری ہے، تاکہ ادارہ مزید جدید اور خودمختار بن سکے۔ "ہم چاہتے ہیں کہ نیا سرمایہ کار ایک تیار حالت میں ادارہ حاصل کرے۔”اوورسیز پاکستانیوں کا ذکر کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ماضی میں جب وہ انتقال کرتے تھے، پی آئی اے ان کی میتیں مفت منتقل کرتی تھی، مگر پابندی کے بعد ہزاروں ڈالر خرچ کرنا پڑا۔ "یہ ایک تکلیف دہ صورتحال تھی، یہاں تک کہ بعض افراد نے برطانیہ میں ہی قبرستانوں میں جگہ لے لی۔”

انہوں نے بتایا کہ اب صورتحال بہتر ہو رہی ہے، اور پاکستان اب برطانیہ میں آپریٹنگ لائسنس حاصل کرے گا۔ ان کے مطابق ایئر بلیو کو بھی وہاں آپریٹ کرنے کی اجازت مل چکی ہے۔ خواجہ آصف نے سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) اور وزیر سعد رفیق کو اس کامیابی پر خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ یورپی یونین کی سطح پر بھی اب پاکستان پر اعتماد بحال ہو رہا ہے۔







Discussion about this post