وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایک طاقتور اور جرات مندانہ بیان میں دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ صہیونیت نہ صرف خطے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ فلسطین کی مقدس سرزمین پر اسرائیل کے قیام سے لے کر آج تک عالم اسلام پر جو بھی تباہی اور آفتیں نازل ہوئی ہیں، ان سب کے پیچھے صہیونی نظریہ اور اسرائیلی ریاست کا براہ راست یا بالواسطہ ہاتھ صاف نظر آتا ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ صہیونیت نے ایک صدی سے زائد عرصے سے عالمی معاشی نظام کو اپنے پنجوں میں جکڑ رکھا ہے۔ بڑی طاقتیں جوہری ہتھیاروں کی یرغمال بن چکی ہیں، مگرخدا کی رحمت اور ہماری مسلح افواج کی بے مثال طاقت دنیا بھر میں تسلیم شدہ ہےیہ طاقت ہی پاکستان کی خودمختاری اور وقار کی ضمانت ہے۔ انہوں نے ایٹمی طاقت بنانے والوں کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے دعا کی کہ خدا تعالیٰ ان سب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا، ایٹمی تجربات کیے اور دنیا کو یہ باور کروایا کہ ہم ایک ایٹمی قوت ہیں جو اپنے دفاع کے لیے کسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے کو تیار ہے۔
صیہونیت انسانیت کے لئے خطرہ ھے۔ فلسطین کی سرزمین پہ اسرائیل کے قائم ھونے سے لیکر آجتک اسلامی دنیا پہ جو بھی قیامتیں ٹوٹیں جو بھی جنگیں مسلط ھوئیں انکے پیچھے صیہونی سوچ اور ریاست بالواسطہ یا بلا واسط کار فرما نظر آئیگی ۔ دنیا کے معاشی نظام پہ صیہونیت کا ایک صدی سے قبضہ ھے۔ بڑی…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) March 3, 2026
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ایران نے معاہدے اور امن کی راہ اختیار کرنے کی مکمل آمادگی ظاہر کی تھی، مگر اس پر جنگ مسلط کر دی گئی۔ یہ جنگ اسرائیل کے صہیونی ایجنڈے کا حصہ ہے جس میں اسرائیلی اثر و رسوخ کو پاکستان کی سرحدوں تک پھیلانا اور ملک کو ہر طرف سے دشمنوں سے گھیرنا شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان، ایران اور بھارت کا مشترکہ واحد نکاتی ایجنڈا پاکستان سے دشمنی، ہماری سرحدوں کو غیر محفوظ بنانا، ہمیں چاروں طرف سے گھیرنا اور پاکستان کو ایک کمزور جاگیردار ریاست میں تبدیل کرنا ہے۔ پاکستانیوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی یا مذہبی وابستگی سے بالاتر ہو کر اس سازش کو سمجھیں، اپنے ازلی دشمنوں کے عزائم کو پہچانیں اور قومی اتحاد کے ساتھ اس کے خلاف ڈٹ جائیں۔







Discussion about this post