وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ اٹھارہویں ترمیم محض ڈھکوسلا ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ نہ بلدیاتی نظام قائم ہو سکا ہے اور نہ پولیس سسٹم کی مضبوط بنیاد رکھی جا سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کا ایک طے شدہ اور مؤثر نظام جلد از جلد نافذ کرنا ناگزیر ہے تاکہ عوام کی حقیقی نمائندگی ممکن ہو سکے۔خواجہ آصف کی تقریر کے دوران پی ٹی آئی کے ارکان نے شور و غل مچایا، جس پر انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ محمود خان اچکزئی اپنی پارٹی کو سنبھالیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمہارا لیڈر کہتا تھا کہ “رلاؤں گا”، بتاؤ آج کون رورہا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ عوام کی نمائندگی کے بغیر بلدیاتی نظام مکمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کراچی، لاہور سمیت ملک کے ہر شہر اور گلی محلے میں بلدیاتی نظام لانا ہوگا اور ہر صوبے کے شہریوں کو اپنی سطح پر نمائندگی ملنی چاہیے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ جب تک گلی محلے تک عوامی نمائندگی نہیں پہنچائی جائے گی، وزارت دفاع کی فائر بریگیڈ جیسے عارضی اقدامات آگ پر قابو پانے کے مترادف ہوں گے، لیکن حقیقی حل مضبوط بلدیاتی نظام ہے۔ خواجہ آصف نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی حکومتیں ہمیشہ حیلے بہانوں سے بلدیاتی نظام سے بھاگتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نمائندے عوام کے قریب ہوں گے اور ہر شہری کو گلی محلے میں اپنے نمائندے تک رسائی حاصل ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ اگلی آئینی ترمیم میں ایک قوم، ایک نصاب اور مضبوط بلدیاتی نظام کو یقینی بنایا جائے تاکہ پاکستان میں حقیقی عوامی نمائندگی اور شفاف حکمرانی قائم ہو سکے۔







Discussion about this post