پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بار پھر سابق فوجی افسر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔ سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ’’فیض حمید عمران خان کے پروجیکٹ کے مرکزی ہِدف تھے اور اس منصوبے کے پیچھے کئی دیگر شخصیات بھی شامل رہی ہیں۔ یہ پروجیکٹ آہستہ آہستہ بے نقاب ہونا شروع ہو گیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’آج بھی کچھ سازشی عناصر عمران خان کو اقتدار میں لانے کی کوششیں کر رہے ہیں، اور ان سازشوں کے بیج فیض حمید نے بوئے ہیں۔ جب وہ کور کمانڈر پشاور تھے تب بھی انہوں نے عمران خان کو تقویت دی۔‘‘
جنرل فیض کو عمران خان کے رُوپ میں خود ذاتی طور پر حُکمرانی کرنے کا موقع ملا، اور اُس حُکمرانی میں اُنہوں نے جو کچھ کیا، میں اپنی ذاتی بات نہیں کرنا چاہتا، میرے پاس ذاتی بھی بہت سی چیزیں ہیں جو بتا سکتا ہوں، خواجہ آصف pic.twitter.com/33y66CJiYx
— Khurram Iqbal (@khurram143) December 13, 2025
خواجہ آصف نے نو مئی کے واقعے کو بھی فیض حمید کے ‘جوائنٹ وینچر’ کے طور پر بیان کیا اور کہا کہ ’’نو مئی کو منصوبہ بندی کرنے والے لوگ اندر سے بھی تھے، لیکن مین پاور پی ٹی آئی نے فراہم کی۔‘‘انہوں نے واضح کیا کہ فیض حمید کو سزا کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے اور ان کا ٹرائل فوج نے خود کیا۔ ’’فیض حمید نے نیب کو ہمارے خلاف استعمال کیا۔ جو گرہیں فیض حمید اور عمران خان نے باندھی ہیں، ان کے کھلنے کا اندازہ نہیں۔‘‘ خواجہ آصف نے انتباہ بھی کیا کہ ’’اگر فیض حمید اور عمران خان کا یہ گٹھ جوڑ برقرار رہتا تو حالات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ وہ ایک ہائیبرڈ نظام کے تحت ملک کو اپنی مرضی کے مطابق کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ ۔






Discussion about this post