صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت میں صوبائی محتسب سندھ نے کراچی کی شہری مہرین زہرہ کی شکایت پر کے-الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مونس عبداللہ علوی کو ان کے عہدے سے برطرف کرنے اور 25 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب حال ہی میں کے-الیکٹرک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 30 جولائی 2025 سے مونس علوی کو ایک بار پھر سی ای او کے عہدے پر تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔

فیصلے کی تفصیلات
، صوبائی محتسب نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ مونس علوی کے خلاف الزامات ثابت ہو چکے ہیں، لہٰذا انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے اور مالی جرمانے کا اطلاق کیا جائے۔ یہ فیصلہ صارف کی جانب سے کی گئی شکایت پر دیا گیا، جس میں کے-الیکٹرک کی مبینہ بدانتظامی، عدم شفافیت اور صارفین کو درپیش مسائل کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ مہرین زہرہ کی درخواست پر کی گئی انکوائری کے بعد محتسب نے یہ فیصلہ سنایا، جو پاکستان میں عوامی شکایات پر بڑی کاروائیوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ 7 جولائی 2025 کو ہونے والے بورڈ اجلاس میں کے-الیکٹرک نے ایک سرکاری پریس ریلیز کے ذریعے اعلان کیا تھا کہ:
"سید مونس علوی کو 30 جولائی 2025 سے دوبارہ چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کر دیا گیا ہے۔”
مونس علوی 2008 میں کے-الیکٹرک کا حصہ بنے تھے اور سی ایف او، کمپنی سیکریٹری، اور ہیڈ آف ٹریژری جیسے اہم عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔ یہ فیصلہ پاکستان میں کارپوریٹ احتساب اور صارفین کے حقوق کے حوالے سے ایک نمایاں نظیر کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ کاروائی اداروں کو عوامی شکایات کو سنجیدگی سے لینے اور شفافیت کو یقینی بنانے کا سخت پیغام دیتی ہے۔







Discussion about this post