کراچی میں پہلی بارش کے ساتھ ہی ایک بار پھر یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی کہ ناقص منصوبہ بندی کس تیزی سے بارش کو آفت میں بدل دیتی ہے۔ لیاقت آباد، ملیر اور کورنگی کی سڑکیں کمر تک پانی میں ڈوب گئیں۔ موٹرسائیکلیں لکڑی کے بے سہارا ٹکڑوں کی طرح پانی میں بہہ گئیں۔ خاندان، بچوں اور کھانے کی ٹوکریوں کے ساتھ، اپنے گھروں کی دہلیز تک پہنچتے گدلے پانی کے ریلوں میں سے گزرتے رہے۔ بلدیہ ٹاؤن میں ایک دکاندار گھٹنے تک پانی میں ڈوبا کھڑا تھا، بے بس، جبکہ اس کی دن بھر کی کمائی پانی میں بہہ گئی۔ یہی ہے وہ حقیقت جس کا سامنا ہر برس برساتی موسم میں لاکھوں کراچی والوں کو ہوتا ہے۔ عام بارش ایک شہری تباہی میں بدل جاتی ہے۔ بجلی کے بریک ڈاؤن پورے محلے اندھیرے میں ڈبو دیتے ہیں۔ اسکول بند ہوجاتے ہیں۔ ایمبولینسیں پانی میں ڈوبی سڑکوں سے مریضوں تک پہنچنے میں ناکام رہتی ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان غریب باسیوں کو ہوتا ہے جو کچی آبادیوں میں بغیر نکاسی کے رہتے ہیں، ان کے گھر سب سے پہلے ڈوبتے ہیں، ان کے روزگار سب سے کمزور ہوتے ہیں، ان کی آواز سب سے زیادہ نظر انداز کی جاتی ہے۔

بارش کو الزام دینا سراسر غلط ہے۔ کراچی موسم میں نہیں، فیصلوں میں ڈوب رہا ہے۔ طوفانی پانی کی نکاسی کے لیے بنے پرانے نالے آج کی بارش کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں۔ نالے کچرے سے بھرے یا غیر قانونی تعمیرات سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ وہ زمینیں جو بارش کا پانی جذب کرسکتی تھیں، شہر کی بے قابو توسیع میں پختہ سڑکوں اور پلازوں میں بدل دی گئیں۔ حکام جانتے تھے کہ بارشیں زیادہ شدید ہوں گی، موسمیاتی ماہرین نے ہفتوں پہلے خبردار کردیا تھامگر کچھ نہ کیا گیا۔ اس ناکامی کی سب سے واضح مثال ملیر ایکسپریس وے ہے۔ اسے کراچی کی نئی چمکتی شریان قرار دیا گیا، لیکن افتتاح سے پہلے ہی اس کے کئی حصے بارش کے پانی میں بہہ گئے۔ یہ سڑک ملیر ندی کے کنارے بنائی گئی، جو ابتدا ہی سے متنازع تھی۔ ماہرینِ ماحولیات اور مقامی آبادی نے خبردار کیا تھا کہ یہ منصوبہ سیلاب کے خطرات بڑھائے گا، مگر ان کی باتوں کو نظرانداز کردیا گیا۔ جب مون سون آیا تو ان کے خدشات درست ثابت ہوئے۔ ایکسپریس وے کراچی کے سیلاب کی واحد وجہ نہیں، مگر یہ اس بات کی کڑی یاد دہانی ہے کہ کیسے دکھاوے کے میگا پراجیکٹس کو پائیدار منصوبہ بندی پر ترجیح دی جاتی ہے۔

اس غفلت کی قیمت روزانہ مقامی شہری ادا کرتے ہیں۔ کورنگی کا مزدور اپنے کارخانے نہیں پہنچ پاتا جب بسیں سینہ تک پانی میں پھنسی رہتی ہیں۔ اورنگی ٹاؤن کی ماں اندھیرے میں بیٹھی ہے جب ایک اور ٹرانسفارمر جل جاتا ہے۔ صدر کے چھوٹے تاجر اپنی پوری دکان کا سامان کھو بیٹھتے ہیں۔ یہ صرف معیشت کے اعدادوشمار نہیں، یہ زندگیاں ہیں جو بکھر جاتی ہیں، خواب ہیں جو ٹوٹ جاتے ہیں۔ ایشیا کے دوسرے شہروں نے ثابت کیا ہے کہ یہ انجام لازمی نہیں۔ ڈھاکہ، بینکاک اور سیلاب سے دوچار جکارتہ نے پانی روکنے کے ذخیرے، نالوں کی کھدائی اور سخت تعمیراتی قوانین پر سرمایہ کاری کی ہے۔ اس کے برعکس کراچی عارضی حل پر انحصار کرتا ہے: بارش کے بعد پمپ لگا کر پانی نکالنا، نالوں کی صفائی صرف میڈیا کے سامنے کرنا، اور وہ ایکسپریس ویز بنانا جو پہلی بارش میں ہی ناکام ہوجاتے ہیں۔ ایسا ہونا ضروری نہیں۔ کراچی کو ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو شہریوں کو فوری سیاسی فائدے سے زیادہ اہمیت دیں جو فطری نالوں کو بچا سکیں، دریا کے کناروں پر تعمیر پر پابندی نافذ کریں اور وہ انفراسٹرکچر بنائیں جو موجودہ موسم کے مطابق ہو، نہ کہ ماضی کے کراچی کے۔ ماحولیاتی تبدیلی نے جنوبی ایشیا میں بارشوں کی شدت بڑھا دی ہے؛ اس کے مقابلے کی صلاحیت کوئی اضافی سہولت نہیں بلکہ ناگزیر ہے۔جیسا کہ ایک رہائشی نے اپنے گھر کے باہر کمر تک پانی میں کھڑے ہو کر کہا: "ہمیں مزید سڑکوں کی ضرورت نہیں، ہمیں ایک ایسا شہر چاہیے جو بارش برداشت کرسکے۔”

کراچی کے سیلاب کوئی قدرتی آفت نہیں۔ یہ اس حکمرانی کا نتیجہ ہیں جس نے حقیقت سے آنکھیں چرا لیں، ہر مون سون کو الگ سانحہ سمجھا، بجائے اس کے کہ اسے ایک بار بار آنے والا موسم مانا جائے۔ جب تک شہر لچکدار منصوبہ بندی نہیں کرے گا، بارشیں واپس آتی رہیں گی اور تباہی اور مایوسی کا یہی چکر دہراتا رہے گا۔







Discussion about this post