اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ اور پورے پاکستان میں موجود امریکی قونصل خانوں کی سروسز نے ایک انتہائی غیر معمولی اور سخت قدم اٹھاتے ہوئے عارضی طور پر مکمل معطلی کا اعلان کر دیا ہے، جو سیکورٹی کی سنگین صورتحال کا نتیجہ ہے۔ یہ فیصلہ اتنا اہم اور فوری ہے کہ اسلام آباد کی سفارت خانہ کے علاوہ کراچی، لاہور اور پشاور کے قونصل خانوں میں ویزا انٹرویوز، امریکی شہریوں کی پاسپورٹ اور دیگر معمول کی خدمات 2 مارچ 2026 کو بالکل بند کر دی گئی ہیں، جبکہ نئی تاریخوں اور شیڈول کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ اس بندش کا بنیادی مقصد سفارتی عملے کی جانوں کی حفاظت اور زائرین کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے، کیونکہ ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، جس نے امریکی سرکاری دفاتر کے باہر شدید مظاہروں اور خونریز جھڑپوں کو جنم دیا، جن میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ تاہم، انتہائی ضروری اور ایمرجنسی کیسز میں محدود پیمانے پر خدمات ممکن ہیں، مگر عام حالات میں کوئی رعایت نہیں دی جا رہی۔ کراچی میں سیکورٹی کے شدید خدشات کی وجہ سے امریکی قونصل خانے کی طرف جانے والے تمام راستے مکمل طور پر سیل کر دیے گئے ہیں، جہاں پی آئی ڈی سی چوک سے ایم ٹی خان روڈ اور سلطان آباد کی طرف جانے والی سڑک پر بھاری کنٹینرز لگا کر راستہ روک دیا گیا ہے۔

اسی طرح پی آئی ڈی سی چوک سے ضیاء الدین روڈ اور سی ایم ہاؤس کی جانب، ٹاور سے مائی کلاچی، اور بوٹ بیسن سے مائی کلاچی کی طرف جانے والی اہم شاہراہیں رکاوٹوں سے بند کر کے ٹریفک کی روانی کو معطل کر دیا گیا ہے۔ ٹریفک پولیس کے حکام نے واضح کیا ہے کہ ممکنہ احتجاجی لہر اور سیکورٹی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اقدامات اٹھائے گئے ہیں تاکہ مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ علاوہ ازیں، شارع فیصل پر ایف ٹی سی کے قریب عام ٹریفک کے لیے سڑک بند کر دی گئی ہے، جہاں سے میٹروپول کی طرف جانے والا راستہ بھی رکاوٹوں سے سیل ہے۔ گزشتہ روز سے ہی یہ علاقہ ٹریفک کے لیے بند ہے اور آنے والی گاڑیوں کو گورا قبرستان سے یوٹرن لے کر صدر کی جانب موڑ دیا جا رہا ہے۔








Discussion about this post