سولجر بازار کی تنگ گلیوں میں واقع گل رعنا کالونی ایک بار پھر درد کی ایک نئی داستان رقم کر رہی ہے۔ سحری کے مقدس لمحات میں، جب شہر ابھی نیند کی آغوش میں تھا، ایک گھریلو عمارت کی پہلی منزل سے گیس کا سلنڈر پھٹ پڑا۔ یہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ آس پاس کی عمارتیں لرز اٹھیں، اور ایک لمحے میں چھت زمین بوس ہو گئی، جیسے کوئی طوفان خاموشی سے سب کچھ تباہ کر گیا ہو۔اس سانحے نے چودہ جاں لے لیں، جن میں معصوم بچے، ننھی سی بچیوں کی ہنسی، اور ماں بہنوں کی گرم جھولیاں شامل تھیں۔ دس سالہ سجاد، جو شاید ابھی خوابوں میں کھیل رہا تھا، ملبے تلے دبا ملا۔ چالیس چار سالہ زینب اور سترہ سالہ افشاں جیسی خواتین، جو گھر کی رونق تھیں، اب اسی ملبے میں خاموش ہو گئیں۔ طلحہ اور ساٹھ سالہ ریاض جیسے لوگ بھی اس ظالم دھماکے کی نذر ہوئے۔ چودہ زخمی اب سول ہسپتال کی سفید دیواروں کے درمیان زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں، جہاں ڈاکٹر اور نرسیں رات دن ایک کیے ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین کی زبانیں اب بھی کانپ رہی ہیں۔ دھماکے کی آواز ایسی تھی جیسے آسمان پھٹ پڑا ہو، اور پھر ایک لمحے میں سب کچھ ویران۔ یہ عمارت قانونی نہیں تھی، صرف ایک کمرے کی چھوٹی سی جگہ جہاں گراؤنڈ پلس دو منزلوں پر زندگیاں سمیٹی گئی تھیں۔ جگہ کی تنگی نے امدادی کارروائیوں کو اور مشکل بنا دیا، مگر ایدھی فاؤنڈیشن کے رضا کار، ایمبولینسیں اور پولیس کی ٹیمیں بے خوف اور بے لوث میدان میں ڈٹ گئیں۔ ملبے سے مزید ایک دو افراد کی آوازیں اب بھی سنائی دے رہی ہیں، اور تلاش کا سلسلہ جاری ہے۔ اے ایس پی جمشید عاشر اور چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر عابد جیسے افسران موقع پر موجود ہیں، جہاں گیس لیکیج کو دھماکے کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام نے لوگوں سے التجا کی ہے کہ وہ جائے وقوعہ سے دور رہیں تاکہ بچاؤ کا کام متاثر نہ ہو۔







Discussion about this post