کراچی میں شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے انتظامیہ نے ایک بار پھر سخت قدم اٹھاتے ہوئے دن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک کی آمدورفت پر دو ماہ کی پابندی نافذ کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے حالات میں سامنے آیا ہے جب شہر کی سڑکیں بھاری گاڑیوں کے باعث بڑھتے ہوئے حادثات اور ٹریفک بدانتظامی کی زد میں تھیں۔ انتظامی ذرائع کے مطابق حالیہ مہینوں میں ڈمپرز، ٹریلرز اور واٹر ٹینکروں سے پیش آنے والے حادثات نے صورتحال کو نہایت سنگین بنا دیا تھا، جس کے بعد ٹریفک پولیس کی سفارش پر یہ اقدام ناگزیر سمجھا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ بھاری گاڑیوں کی بے قابو نقل و حرکت نہ صرف ٹریفک جام کا سبب بن رہی تھی بلکہ قیمتی انسانی جانوں کے لیے بھی مستقل خطرہ بن چکی تھی۔ کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ امنِ عامہ اور ٹریفک کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت یہ پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس فیصلے کے مطابق تعمیراتی سامان لے جانے والے ڈمپرز اور دیگر ہیوی گاڑیوں کو دن کے اوقات میں شہر بھر میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ انہیں صرف رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک چلنے کی اجازت دی گئی ہے۔

انتظامیہ نے یہ بھی طے کیا ہے کہ شہر میں ہیوی ٹریفک کی مجموعی آمدورفت پر بھی دن کے وقت پابندی رہے گی، تاہم زندگی کی بنیادی ضروریات سے وابستہ گاڑیاں اس فیصلے سے مستثنیٰ ہوں گی۔ ان میں پانی، خوردنی تیل، مائع نائٹروجن، گوشت، کھالیں اور طبی گیسیں شامل ہیں، جنہیں انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ کراچی کی اہم اور مصروف شاہراہ جناح ایونیو پر بھی ہیوی ٹریفک کے داخلے پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ پابندی سپر ہائی وے ایم نائن کے قریب صائمہ پری کلاسک اور روفی گلوبل سٹی سے لے کر ملیر ہالٹ شاہراہ فیصل تک نافذ رہے گی، تاکہ اس حساس روٹ پر حادثات کے امکانات کم کیے جا سکیں۔ بھاری گاڑیوں کے لیے متبادل اور مخصوص راستے بھی مقرر کر دیے گئے ہیں، جن میں تعمیراتی سامان لے جانے والے ڈمپرز شامل نہیں ہوں گے۔ ان راستوں میں سپر ہائی وے کے ذریعے نیو کراچی انڈسٹریل ایریا تک رسائی، نیشنل ہائی وے کے ذریعے گودام، یونس اور داؤد چورنگی، جبکہ تیسرا راستہ ناردرن بائی پاس ہوگا جو گل بائی اور ماڑی پور کو کراچی پورٹ سے ملاتا ہے۔ اس کے علاوہ لنک روڈ کٹھور سے سسی ٹول پلازہ تک ایک اضافی متبادل راستہ بھی متعین کیا گیا ہے، تاکہ شہر کے اندر ٹریفک دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق وہ ڈمپرز جو منظور شدہ ٹریکنگ ڈیوائسز سے لیس ہوں اور جن کی نگرانی کراچی ٹریفک پولیس کے مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے کی جا رہی ہو، انہیں صنعتی علاقوں میں مخصوص اوقات کی پابندی سے استثنیٰ دیا جائے گا۔ یہ پابندیاں 23 دسمبر سے 22 فروری 2026 تک نافذ رہیں گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں پیش آنے والے دلخراش حادثات نے اس فیصلے کی اہمیت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔ 19 دسمبر کو شہر کے مختلف علاقوں میں تین الگ الگ حادثات میں تین افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ایک ہفتہ قبل ماڑی پور میں ایک ٹریلر نے موٹر سائیکل سوار نوجوان کو کچل دیا تھا اور اس کا ساتھی شدید زخمی ہو گیا تھا۔انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام شہریوں کے لیے محفوظ سڑکوں کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد کراچی کو حادثات اور بے قابو ہیوی ٹریفک کے خطرے سے نکالنا ہے۔






Discussion about this post