کراچی میں کھلے گٹروں کا خطرہ ایک بار پھر ایک معصوم زندگی کو نگلنے کے قریب پہنچ گیا، مگر خوش قسمتی سے ایک راہ گیر کی بروقت کارروائی نے ایک ننھی جان بچا لی۔ منگھوپیر کے علاقے میں گرم چشمہ کے قریب نجی اسکول کی پہلی جماعت کی طالبہ عنایہ امین اسکول سے چھٹی کے بعد گھر جاتے ہوئے کھلے گٹر میں گر گئی۔ واقعے کے وقت وہاں سے گزرنے والے ایک شہری نے غیر معمولی جرات اور حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بچی کو فوراً گٹر سے باہر نکال لیا، یوں ایک بڑا سانحہ ہونے سے ٹل گیا۔ اہل علاقہ کے مطابق اگر چند لمحوں کی بھی تاخیر ہو جاتی تو صورتحال انتہائی سنگین ہو سکتی تھی۔ یہ واقعہ شہر میں کھلے گٹروں سے ہونے والے خطرات کی ایک اور تلخ یاد دہانی ہے۔

چند روز قبل گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب تین سالہ ابراہیم ایک نجی ڈیپارٹمنٹل اسٹور کے سامنے کھلے گٹر میں گر کر لاپتہ ہو گیا تھا۔ بچے کی والدہ کی دردناک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی، جس نے ہر آنکھ کو نم کر دیا۔ اہل خانہ اور علاقے کے افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت مشینری کے ذریعے بچے کی تلاش شروع کی، مگر پوری رات کی کوششوں کے باوجود وہ نہ مل سکا۔ بالآخر واقعے کے تقریباً 14 گھنٹے بعد ایک مقامی نوجوان نے بچے کی لاش جائے وقوعہ سے قریب ایک کلومیٹر دور نالے سے برآمد کی۔ اس افسوسناک واقعے کے دو روز بعد میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے ابراہیم کے گھر جا کر اس سانحے کی ذمہ داری قبول کی اور لواحقین سے معذرت بھی کی۔ بعد ازاں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی تحقیقاتی رپورٹ سیکریٹری بلدیات کو ارسال کی گئی، جس میں حادثے کی ایک بڑی وجہ بی آر ٹی ریڈ لائن کے تعمیراتی کاموں کو قرار دیا گیا۔ یہ دونوں واقعات ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو سامنے لاتے ہیں کہ شہر میں موجود کھلے گٹر مسلسل قیمتی جانوں کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں اور فوری، مؤثر اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔







Discussion about this post