شہرِ قائد کی اہم شاہراہوں پر 1+2 اور 1+4 رکشوں کے داخلے پر باقاعدہ پابندی نافذ کر دی گئی ہے، جب کہ اس پابندی کا دائرہ کار مزید بڑھا دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں رکشوں کی آمد و رفت محدود کرنے کے فیصلے کے تحت اب مجموعی طور پر 26 مرکزی سڑکوں اور شاہراہوں پر رکشوں کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ڈی آئی جی ٹریفک کی سفارشات پر کیا گیا ہے، جبکہ شاہراہ فیصل سے آئی آئی چندریگر روڈ تک رکشوں کی آمد و رفت پر مکمل پابندی فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہے۔ حکام کے مطابق شہر کی 20 اہم سڑکوں پر رکشوں کے داخلے پر پابندی 18 اکتوبر سے 17 دسمبر 2025 تک مؤثر رہے گی۔ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور شہریوں کو درپیش مشکلات کم کرنے کے لیے کمشنر کراچی نے سیکشن 144 کے تحت بھی پابندی نافذ کر دی ہے۔ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اپناتے ہوئے متعلقہ ایس ایچ اوز کو سیکشن 188 کے تحت مقدمات درج کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، جبکہ تمام متعلقہ محکموں اور ڈپٹی کمشنرز کو احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔

عوامی شکایات، ٹریفک جام اور بڑھتے ہوئے حادثات کے خدشات کے پیشِ نظر شہر کی مصروف ترین شاہراہوں پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ مزید برآں کمشنر کراچی نے مزید 6 بڑی شاہراہوں پر 1+4 رکشوں کی آمد و رفت پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، جس کے بعد رکشہ پابندی کے دائرہ کار میں باضابطہ توسیع کر دی گئی ہے۔ نئی شامل کی جانے والی شاہراہوں پر بھی یہ پابندی اسی مدت تک نافذ رہے گی جو پہلے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں درج ہے۔ جن مرکزی شاہراہوں پر رکشوں کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا ہے، ان میں یونیورسٹی روڈ، کورنگی روڈ، اورنگی روڈ، سپر ہائی وے تا ملیر کینٹ، ماری پور روڈ، شاہراہ پاکستان تا سہراب گوٹھ سمیت شہر کی 20 اہم سڑکیں شامل ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدام عوامی تحفظ، بہتر ٹریفک مینجمنٹ اور شہری سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔







Discussion about this post