سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اعلان کیا ہے کہ 25 اگست کے بعد صوبے میں صرف وہی ڈمپر سڑکوں پر چل سکیں گے جن میں ٹریکر اور کیمرے نصب ہوں گے۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں شرجیل میمن نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کا نام لیے بغیر سخت تنقید کی اور کہا کہ حکومت اپنا کام کر رہی ہے، لیکن اگر کوئی بدمعاشی کرے گا تو اسے اسی انداز میں جواب دیا جائے گا۔ ان کے اس بیان پر اپوزیشن بینچوں سے شور شرابہ اور نعرے بلند ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز راشد منہاس روڈ پر ہونے والا ٹریفک حادثہ انتہائی افسوسناک ہے، پولیس نے ڈمپر ڈرائیور کو گرفتار کیا، لیکن اس کے بعد کچھ عناصر نے سڑکوں پر آکر 7 ڈمپرز کو آگ لگا دی۔ سینئر وزیر نے واضح کیا کہ شہر میں دہشت گردی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، چاہے اس کے لیے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ انہوں نے کہا کہ حادثات میں جانیں گنوانے والے متاثرین ڈمپر نہیں جلا رہے، یہ کام صرف فسادی کر رہے ہیں اور بدمعاشوں کے ساتھ بدمعاشوں جیسا سلوک کیا جائے گا۔ شرجیل میمن کے مطابق ڈمپر مالکان کے ساتھ بات چیت کے بعد سڑکیں کھلوا دی گئی ہیں، لیکن انہیں پابند کیا گیا ہے کہ 25 اگست کے بعد صرف وہی گاڑیاں چلیں گی جن میں حفاظتی نگرانی کے لیے ٹریکر اور کیمرے نصب ہوں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک ڈرائیور کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ کومہ میں چلا گیا۔ ان کے مطابق یہ سب جان بوجھ کر شہر میں فساد پھیلانے کی کوشش ہے، اور ایم کیو ایم اس معاملے پر سیاست کر رہی ہے۔







Discussion about this post