کراچی ایک بار پھر بڑی تباہی سے بچ گیا . محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور حساس اداروں نے منگھوپیر میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے چینی شہریوں پر حملے میں ملوث خطرناک دہشت گردوں کو انجام تک پہنچا دیا۔ ہلاک ہونے والوں میں خودکش حملہ آور بھی شامل ہے، جبکہ جائے وقوعہ سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور حساس مواد برآمد ہوا ہے۔ ڈی ایس پی سی ٹی ڈی راجا عمر خطاب نے سول اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خفیہ اطلاع پر منگھوپیر میں ایک مکان پر چھاپہ مارا گیا، جہاں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد موجود تھے۔ چھاپے کے دوران دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے جواب میں کی گئی بھرپور کارروائی میں تین خوارج ہلاک ہو گئے۔
2 کروڑ انعام یافتہ دہشت گرد مارا گیا
راجا عمر خطاب نے انکشاف کیا کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں ایک انتہائی مطلوب دہشت گرد زعفران بھی شامل تھا، جس کے سر پر حکومت نے دو کروڑ روپے انعام مقرر کر رکھا تھا۔ مکان سے خودکش جیکٹس، دستی بم اور ایک تفصیلی ڈائری بھی ملی ہے، جس میں دہشت گردوں کے ممکنہ اہداف درج تھے۔ حکام نے بتایا کہ ہلاک دہشت گرد گزشتہ برس چینی شہریوں پر حملے میں بھی ملوث تھے۔یہ کارروائی کراچی میں دہشت گردی کے ممکنہ منصوبے کو ناکام بنانے میں ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ راجا عمر خطاب نے کہا کہ ریاست دہشت گردوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر گامزن ہے، اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔







Discussion about this post