دنیا تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، لیکن کراچی پاکستان کا سب سے بڑا، سب سے متنوع اور سب سے زیادہ آبادی والا شہر وقت کے ساتھ پیچھے رہتا جا رہا ہے۔ اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ (EIU) کے حالیہ عالمی سروے میں کراچی کو 173 شہروں میں سے 170 واں درجہ دیا گیا ہے، یعنی صرف تین شہر ڈھاکا، طرابلس، اور دمشق، کراچی سے نیچے ہیں۔ یہ درجہ بندی صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ اس شہر کی گہرے مسائل کی غمناک کہانی سناتی ہے۔ صحت، تعلیم، انفرااسٹرکچر، ماحول، اور سیکیورٹی ہر شعبے میں کراچی کی کارکردگی ناقص قرار دی گئی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سروے میں شامل ہونے والا ، ۔ پاکستان کا واحد شہر ہے—اور وہ بھی بدترین شہروں کی فہرست میں! جب دنیا کے بہترین شہروں کی بات کی گئی تو کوپن ہیگن، ویانا، زیورخ، میلبورن، اور جنیوا جیسے شہر چمکتے رہے، جن کے اسکور 96 سے 98 کے درمیان تھے۔ ان شہروں میں سہولیات کا معیار، نظام کی شفافیت، اور عوامی فلاح کی ترجیحات نمایاں تھیں۔ جبکہ کراچی مسلسل پستی کی طرف جا رہا ہے۔
اعداد و شمار سے بڑھ کر ایک درد بھری حقیقت
پچھلے سال کراچی کا درجہ بھی کچھ بہتر نہ تھا۔ دنیا کے بدترین شہروں کی اس فہرست میں اس کا مستقل آنا بتاتا ہے کہ یہ کوئی وقتی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل اور گہرا بحران ہے۔ایشین ڈیولپمنٹ بینک (ADB) پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ پاکستان کے شہری مراکز خصوصاً کراچی، ’رہنے کے قابل‘ نہیں رہے۔ آلودگی، بےہنگم پھیلاؤ، ٹریفک جام، اور منصوبہ بندی کا فقدان یہ سب کراچی کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
طبقاتی تقسیم اور تشدد
کراچی میں طبقاتی خلیج دن بہ دن گہری ہو رہی ہے۔ اشرافیہ محفوظ کنٹونمنٹ علاقوں یا پرتعیش ہاؤسنگ سوسائٹیز میں رہتی ہے، جبکہ محنت کش طبقہ شہر کے کمزور ترین اضلاع، جیسے کراچی ایسٹ، میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ مذہبی و نسلی بنیادوں پر تقسیم، کئی بار پرتشدد تصادم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ شہر میں عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے، اور سیکیورٹی ایک خواب بن چکی ہے۔

ایک اور دھچکا: خطرناک ترین سیاحتی مقام
جولائی میں فوربز ایڈوائزر کی رپورٹ نے کراچی کو دنیا کا دوسرا خطرناک ترین شہر قرار دیا۔ ذاتی تحفظ، جرائم، دہشتگردی، قدرتی آفات، اور انفرااسٹرکچر کی کمزوری یہ سب اس درجہ بندی کا حصہ تھے۔
روشنی کی کوئی کرن؟
اس تمام تاریکی کے باوجود، کراچی میں زندگی کی رمق اب بھی باقی ہے۔ یہ شہر اب بھی تخلیقی، محنتی، اور زندگی سے بھرپور لوگوں کا مسکن ہے۔ لیکن اگر پالیسی ساز، ادارے، اور خود ہم، عوام، اس پر سنجیدگی سے توجہ نہ دیں، تو آنے والے برسوں میں یہ روشنی بھی دم توڑ سکتی ہے۔







Discussion about this post