سابق گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے ایک پرعزم اور دل کو چھو لینے والا اعلان کر دیا ہے کہ گورنر ہاؤس میں شروع کیے گئے مفت آئی ٹی پروگرام کے 50 ہزار طلبہ و طالبات کا مستقبل کسی بھی صورت داؤ پر نہیں لگنے دیں گے۔ سعودی عرب سے ٹیلی فونک رابطے میں انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام سرکاری خزانے سے نہیں بلکہ اپنے ذاتی وسائل سے چلایا جا رہا تھا، جس کا ماہانہ خرچہ سوا کروڑ روپے تک پہنچتا تھا، مگر اب عہدے سے الگ ہونے کے باوجود وہ اس مشن کو ادھورا نہیں چھوڑیں گے۔ ٹیسوری نے طلبہ کو یقین دلایا کہ رمضان کی وجہ سے معطل کلاسز عید الفطر کے بعد دوبارہ شروع کی جائیں گی، اور فلاحی اداروں جیسے جے ڈی سی، سیلانی اور بدر ایکسپو سمیت مخیر حضرات کے تعاون سے نئی جگہ اور شیڈول کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام ہر مذہب اور قومیت کے بچوں کے لیے میرٹ پر کھلا تھا، کراچی سمیت پورے سندھ کے نوجوانوں کو جدید آئی ٹی مہارتیں سکھائی جا رہی تھیں، اور کورس مکمل کرنے والے ہزاروں ڈالر ماہانہ کما سکیں گے۔

سابق گورنر نے واضح کیا کہ اب یہ پروگرام گورنر ہاؤس میں جاری رکھنا نئے گورنر کے عزم پر منحصر ہے، اگر وہ چاہیں تو یہ شاندار اقدام جاری رہے گا، ورنہ وہ خود ذمہ داری اٹھا کر اسے زندہ رکھیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ عمرے کے لیے سعودی عرب پہنچنے کے دوران ایجوکیشن سٹی کے سامان اٹھانے کی خبریں آئیں، مگر اب گورنر ہاؤس نے اسے روک دیا ہے، اور وہ طلبہ کی تعلیم کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ٹیسوری نے مزید کہا کہ وطن واپسی جلد ہوگی، جہاں فلاحی کاموں کے ساتھ سیاسی اور عوامی رابطے بحال کریں گے، اور رمضان دستر خوان بھی اپنی رہائش گاہ پر شروع کر دیا ہے۔







Discussion about this post