امریکہ کے وہ جج جنہوں نے انصاف کو سختی نہیں بلکہ انسانیت اور محبت سے تعبیر کیا، فرینک کیپریو، 88 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔وہ صرف ایک جج نہیں تھے، بلکہ لاکھوں دلوں کی دھڑکن تھے۔ ان کی عدالت میں آنے والے لوگ ملزم نہیں بلکہ انسان سمجھے جاتے۔ اُن کے فیصلے سزا نہیں بلکہ سبق ہوتے۔ یہی وجہ تھی کہ دنیا بھر میں کروڑوں افراد انہیں ’’دنیا کا سب سے اچھا جج‘‘ کہتے تھے۔ فرینک کیپریو کو دو برس سے کینسر لاحق تھا۔ زندگی کے آخری دن، بسترِ مرگ سے انہوں نے اپنے چاہنے والوں سے دعا کی درخواست کی۔ وہ منظر دیکھنے والا ہر دل اشکبار ہو گیا۔ انسان دوستی کا یہ چراغ بجھ تو گیا، مگر اس کی روشنی آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ قائم رہے گی۔

ان کے فیصلے، ان کی مسکراہٹ، اور ان کا انداز آج بھی لوگوں کو یہ سبق دیتا ہے کہ انصاف اگر انسانیت سے خالی ہو تو بیکار ہے، اور اگر انسانیت سے جُڑ جائے تو معاشرے کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ریاست کے گورنر نے ان کی وفات پر پرچم سرنگوں رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا:
“فرینک کیپریو ایک قومی خزانہ تھے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ قانون جب دل کے ساتھ مل جائے تو انصاف زندگی بدل دیتا ہے۔”
35 برس تک کمرہ عدالت میں خدمات دینے والے اس عظیم شخصیت کو دنیا ہمیشہ یاد رکھے گی۔ ان کے فیصلوں کی ویڈیوز، ان کی مسکراہٹ اور اُن کا انسان دوست رویہ ہمیشہ لوگوں کو یاد دلاتا رہے گا کہ:
انصاف صرف سزا دینے کا نام نہیں، بلکہ انسان کو بہتر بنانے کا ہنر ہے







Discussion about this post