امریکی انٹیلی جنس کی دنیا میں ایک زلزلہ آیا جب نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے استعفیٰ دے کر ایک ایسا بیان جاری کیا جو وائٹ ہاؤس کی پالیسی کو براہ راست چیلنج کرتا ہے۔ جو کینٹ، جو ایک سابق گرین بیریٹ سپاہی ہیں اور صدر ٹرمپ کے دیرینہ حامی رہے ہیں، نے کہا کہ ایران نے امریکہ کے لیے کوئی فوری یا ناگزیر خطرہ پیدا نہیں کیا تھا۔ ان کے الفاظ میں یہ جنگ ایران کے خلاف نہیں بلکہ اسرائیل اور اس کی طاقتور امریکی لابی کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اپنے استعفیٰ کے خط میں لکھا کہ وہ اس جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے، کیونکہ ایک سپاہی کے طور پر وہ گیارہ بار محاذ جنگ پر جا چکے ہیں اور اب اگلی نسل کو ایک ایسی لڑائی میں نہیں دھکیل سکتے جس کا امریکی عوام کو کوئی فائدہ نہیں۔ یہ جنگ امریکی خون اور دولت کو ضائع کرنے کا سبب بن رہی ہے، اور اس کا کوئی جواز نہیں۔ جو کینٹ کا یہ قدم ٹرمپ انتظامیہ میں پہلا بڑا اندرونی اختلاف ہے جو کھل کر سامنے آیا، اور یہ امریکہ کی "امریکہ فرسٹ” پالیسی پر ایک گہرا سوال اٹھاتا ہے۔

دوسری جانب، علی لاریجانی کی شہادت نے پورے ایران کو غم اور غصے کی لہر میں ڈبو دیا۔ ایران کے اعلیٰ ترین سیکیورٹی چیف اور قومی سلامتی کونسل کے سربراہ کی اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاکت نے نہ صرف ایران کی قیادت کو شدید جھٹکا دیا بلکہ پورے خطے میں تباہی کی نئی لہریں دوڑا دیں۔ علی لاریجانی کی شہادت کے فوراً بعد ایران نے اسرائیل پر بھرپور جوابی حملہ کیا، جس نے تل ابیب اور دیگر شہروں میں بڑی تباہی مچا دی۔ میزائلوں کی بارش نے عمارتوں کو لرزا دیا، آگ کی لپٹیں آسمان چھو رہی تھیں، اور یہ حملہ ایران کی مزاحمت کی نئی طاقت کا مظہر تھا۔ وائٹ ہاؤس نے جو کینٹ کے بیان کو سختی سے مسترد کر دیا۔ ترجمان نے کہا کہ ان کے پاس قابل اعتماد انٹیلی جنس شواہد موجود تھے کہ ایران امریکہ پر حملہ کرنے والا تھا، اور اس لیے کارروائی ناگزیر تھی۔ یہ بیان جو کینٹ کے الزامات کو جھوٹا قرار دیتا ہے اور انتظامیہ کی پوزیشن کو مزید مضبوط کرتا ہے۔








Discussion about this post