خواتین کے حقوق کے تحفظ کے باب میں ایک اہم اور تاریخ ساز پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسانی فوزیہ وقار نے ایک نہایت اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ زچگی کی چھٹی کے دوران خاتون ملازمہ کو برطرف کرنا نہ صرف صنفی امتیاز ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔ یہ فیصلہ خاتون ملازمہ زینب زہرہ اعوان کی درخواست پر سنایا گیا جسے زچگی کی چھٹی کے دوران نجی کمپنی نے ملازمت سے برخاست کر دیا تھا۔

وفاقی محتسب نے نہ صرف برطرفی کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر زینب زہرہ کی ملازمت بحال کر دی، بلکہ نجی کمپنی پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ فیصلے کے مطابق کمپنی کو حکم دیا گیا کہ 8 لاکھ روپے بطور معاوضہ متاثرہ خاتون کو ادا کیے جائیں، جبکہ 2 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کرائے جائیں۔ اس کے علاوہ محتسب نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ ایسے اقدامات آئندہ کسی ادارے میں برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ فوزیہ وقار نے فیصلے کے دوران انتہائی اہم اور معنی خیز الفاظ ادا کرتے ہوئے کہا:
“ماں بننا کسی عورت کے کیریئر کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ زچگی کے دوران ملازمت کا تحفظ خواتین کا بنیادی حق ہے، اور محفوظ زچگی ہر عورت کے وقار کا حصہ ہے۔”
یہ فیصلہ نہ صرف زینب زہرہ اعوان کے لیے انصاف کی جیت ہے، بلکہ پاکستان میں پیشہ ورانہ ماحول میں خواتین کے لیے ایک مضبوط اور واضح پیغام بھی ہے کہ ماں بننے کا حق اُن کے کیریئر یا عزتِ نفس کی قیمت پر نہیں چھینا جا سکتا۔ یہ قدم مستقبل میں ہزاروں خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے سفر میں ایک سنگِ میل بن کر سامنے آیا ہے۔







Discussion about this post