بھارتی نغمہ نگار اور لکھاری جاوید اختر نے بھارتی حکومت کی جانب سے افغان طالبان کے وزیرِ خارجہ کو سرکاری پروٹوکول دیے جانے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ “میرا سر شرم سے جھک گیا ہے”۔ جاوید اختر نے اپنے سلسلہ وار ٹوئٹس میں افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے بھارت کے سرکاری دورے پر ناراضی کا اظہار کیا۔انہوں نے لکھا کہ جب انہوں نے دیکھا کہ “دنیا کے بدترین گروہ طالبان کے نمائندے کو بھارتی حکومت نے پروٹوکول دیا اور استقبال کیا، تو شرم سے میرا سر جھک گیا۔”بھارتی لکھاری نے اپنی ٹوئٹ میں طالبان کو “دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد گروہ” قرار دیا اور بھارتی حکومت کے دوہرے معیار پر سوال اٹھایا کہ “جو حکومت دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کرنے کا دعویٰ کرتی ہے، وہی طالبان کا استقبال کر رہی ہے۔”
I hang my head in shame when I see the kind of respect and reception has been given to the representative of the world’s worst terrorists group Taliban by those who beat the pulpit against all kind of terrorists . Shame on Deoband too for giving such a reverent welcome to their “…
— Javed Akhtar (@Javedakhtarjadu) October 13, 2025
جاوید اختر نے اپنی ایک اور ٹوئٹ میں دارالعلوم دیوبند کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، ان کا کہنا تھا کہ “انہیں شرم آنی چاہیے کہ انہوں نے ان لوگوں کو عزت دی جنہوں نے لڑکیوں کی تعلیم پر مکمل پابندی لگا رکھی ہے۔” انہوں نے بھارت کی معروف خواتین صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “کاش وہ بھی طالبان وزیرِ خارجہ کی پریس کانفرنس میں شریک ہوتیں، لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہو سکا۔” جاوید اختر نے بھارتی عوام سے سوال کرتے ہوئے لکھا، “بھائیو اور بہنو! ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟”
How I wish that the sharp witted women journalists like Anjana Om Kashyap , Chitra , Navika and Rubika could attend the first press conference of that woman hater Talibani who was the official guest of our secular country but Alas …
— Javed Akhtar (@Javedakhtarjadu) October 14, 2025
ان کے بیانات پر درجنوں افراد نے سوشل میڈیا پر تبصرے کیے، جن میں سے بیشتر نے جاوید اختر کے مؤقف کی حمایت کی۔خیال رہے کہ افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی 9 اکتوبر کو اپنے پہلے سرکاری دورے پر نئی دہلی پہنچے تھے۔ بھارتی وزیرِ خارجہ نے ملاقات کے بعد اعلان کیا تھا کہ بھارت جلد کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولے گا، جس سے یہ عندیہ بھی ملا کہ نئی دہلی طالبان حکومت کو تسلیم کرنے پر غور کر رہی ہے۔







Discussion about this post