پاکستان کے نامور فلم ساز اور ہدایتکار جمشید محمود رضا المعروف "جامی” کو کراچی کی ایک عدالت نے ہتک عزت کے مقدمے میں دو سال قیدِ بامشقت اور دس ہزار روپے جرمانے کی سزا سناتے ہوئے عدالت سے ہی گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو مزید ایک ماہ قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔ جامی کے قریبی ساتھی نے گرفتاری کی تصدیق کی۔
الزام اور مقدمے کی نوعیت
جامی پر الزام تھا کہ انہوں نے 15 فروری 2019 کو اپنے فیس بک پیج ‘Jami Moor’ پر ایک خط شائع کیا تھا جس میں جنسی زیادتی کے ایک واقعے کی تفصیل بیان کی گئی تھی۔ اگرچہ اس خط میں کسی فرد کا نام نہیں لیا گیا، لیکن کچھ ہی دیر میں سوشل میڈیا صارفین نے ہدایتکار سہیل جاوید کو نشانے پر رکھ لیا، جس کے بعد سہیل جاوید نے جامی کے خلاف عدالت میں ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا۔ مدعی کے مطابق، جامی نے نہ صرف اس غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ سوشل میڈیا پر ایسے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے جن میں سہیل جاوید کا نام نمایاں تھا۔ مزید یہ کہ "لاہوتی میلہ 2019” کے دوران، جامی نے اس خط کو عوامی تقریب میں اونچی آواز میں پڑھا، جسے ہزاروں افراد نے سنا اور بعد ازاں یوٹیوب پر بھی شیئر کیا گیا۔ مدعی نے موقف اپنایا کہ یہ عمل ان کی ساکھ اور پیشہ ورانہ حیثیت کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوا۔

عدالت کا مؤقف اور فیصلہ
تحریری فیصلے میں بتایا گیا کہ مدعی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے جامی کا طرزِ عمل جان بوجھ کر اور غیر ذمہ دارانہ تھا۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ اگرچہ خط میں نام نہیں تھا، تاہم اس میں ایسی شناختی تفصیلات شامل تھیں جن سے افراد خود بخود مدعی کی شناخت تک پہنچ گئے۔ عدالت کے مطابق، جامی نہ صرف مواد کو ڈیلیٹ کرنے میں تاخیر کرتے رہے بلکہ سوشل میڈیا پر تبصروں اور قیاس آرائیوں کو ہوا دیتے رہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ جامی کی جانب سے کوئی تسلی بخش ثبوت یا دفاع پیش نہیں کیا گیا، اور یہ بات ثابت ہو گئی کہ ملزم نے دانستہ طور پر مدعی کی کردار کشی کی۔
جامی کا مؤقف
دورانِ سماعت جامی نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ خط انہیں "لاہوتی میلہ” کے منتظم کی جانب سے دیا گیا تھا اور اس کے مندرجات سے وہ پہلے سے آگاہ نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا صارفین کے تبصروں کے بعد انہوں نے اپنا اکاؤنٹ اور پوسٹ دونوں حذف کر دیے تھے، اور ان کا کسی کو بدنام کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
فن، مزاحمت اور خودمختاری کی علامت
جمشید محمود رضا، جنہیں دنیا "جامی” کے نام سے جانتی ہے، پاکستان کے اُن چند فلم سازوں میں سے ہیں جنہوں نے معاشرتی مسائل اور حساس موضوعات پر کھل کر اظہار کیا۔ امریکا کی آرٹ سینٹر کالج آف ڈیزائن، پاساڈینا سے فلم سازی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ 1998 میں کراچی واپس آئے اور اپنی آزاد فلم کمپنی قائم کی۔







Discussion about this post